سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو سیاحوں اور مقامی لوگوں کو سری نگر میں واقع گلِ داؤدی باغ آنے اور یہاں یادگار لمحات گزارنے کی دعوت دی۔ یہ باغ مسلسل دوسرے سال عام لوگوں کے لیے کھولا گیا ہے۔ باغ کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو، جو کشمیر آنے کے خواہش مند ہیں، بلکہ سری نگر اور آس پاس کے علاقوں کے مقامی باشندوں کو بھی اس باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں آئیں، باغ کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں، تصاویر کھینچیں، یادگار لمحات گزاریں اور پھر واپس لوٹ جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس باغ کو تیار کرنے کا مقصد سیاحتی موسم کی شروعات ایک ایسی منفرد کشش کے ساتھ کرنا تھا، جسے سیاح کہیں اور نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ سیاحتی موسم کو مزید فروغ دیا جائے۔ گزشتہ کئی برسوں سے دیکھا جارہا ہے کہ سیاحتی موسم کے آغاز پر بڑی تعداد میں لوگ ٹیولپ باغ کی سیر کے لیے آتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اس موسم میں سیاحوں کو دکھانے کے لیے کوئی خاص یا منفرد چیز موجود نہیں تھی، اس لیے محکمہ پھول بانی نے گلِ داؤدی کے اس باغ، یعنی ’’باغِ گلِ داؤد‘‘ کو تیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس باغ میں نمایاں ترقی ہوئی ہے اور اسے آئندہ بھی مزید بہتر بنایا جاتا رہے گا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق، اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ باغ کو برقرار رکھنے کے لیے بار بار بیرون ملک سے اس کے بلب درآمد کرنے پڑتے ہیں، جب کہ باغِ گلِ داؤد کے پودوں کے لیے درکار مواد مقامی طور پر دستیاب ہے۔ ان پودوں کی افزائش خود کی جاتی ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ ہر سال اس باغ میں کوئی نئی چیز شامل کی جائے، تاکہ سیاحوں کو یہاں آنے پر ایک نیا اور خوشگوار تجربہ حاصل ہو۔