نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت اور آسام حکومت سے سرکاری کمپنی ’آئل انڈیا‘ کی درخواست پر جواب طلب کیا ہے۔ کمپنی نے اس درخواست میں آسام کے ڈبرو سیخوا نیشنل پارک میں تیل اور گیس کی تلاش کے مجوزہ منصوبے کو مسترد کرنے کے فیصلے کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے آئل انڈیا کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل راکیش دویدی کی دلیلوں پر غور کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ درخواست انتہائی اہم ہے، کیونکہ سرکاری کمپنی متعلقہ علاقے میں تیل کی تلاش نہیں کر پا رہی ہے۔ دویدی نے بتایا کہ ڈبرو سیخوا نیشنل پارک کے قریب واقع اس علاقے میں ملک کے مجموعی ہائیڈرو کاربن ذخائر کا تقریباً 3 فیصد حصہ موجود ہونے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای آر ڈی ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین کی سطح سے تقریباً 4000 میٹر نیچے تک کھدائی کرکے تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کیے جائیں گے۔ اس طریقے سے نیشنل پارک کے درختوں، پودوں اور جنگلی جانوروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
بنچ نے کہا کہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت سمیت متعلقہ حکام کی تحقیق اور ترقی سے متعلق رپورٹوں کی بنیاد پر وہ اس علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش کی اجازت دینے پر غور کر سکتی ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 17 نومبر کے بعد ہوگی۔ اس سے پہلے 2 ستمبر کو بنچ نے آئل انڈیا کو اپنی عبوری درخواست واپس لینے اور نیشنل پارک کے نیچے ای آر ڈی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیل اور گیس نکالنے کی تجویز کو مرکزی حکومت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے نئی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی تھی۔
اس وقت دویدی نے دلیل دی تھی، ’’یہ معاملہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ علاقہ نیشنل پارک کی سرحد کے کنارے واقع ہے۔ تمام منظوری مل چکی ہیں، لیکن حکومت خود کو 2023 میں اس عدالت کے دیے گئے اس حکم کا پابند سمجھ رہی ہے، جس میں کان کنی پر پابندی لگائی گئی تھی۔ یہ کان کنی نہیں ہے۔ پائپ لائن پارک کے باہر بچھائی جا رہی ہے۔ یہ 4000 میٹر نیچے جاتی ہے اور پھر افقی سمت میں آگے بڑھتی ہے۔‘
‘ انہوں نے بتایا کہ یہ درخواست 1995 سے زیر التوا مقدمے ’ٹی این گوداورمن تھروملپاد بنام یونین آف انڈیا‘ میں دائر کی گئی ہے۔ یہ ایک اہم مقدمہ ہے، جس نے جنگلات کے تحفظ اور ماحولیات سے متعلق قانونی اصولوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دویدی نے مجوزہ منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔