مجرم کتنا ہی ڈیپ فیک کا پردہ اوڑھ لے، اسے ڈھونڈ نکالیں گے: یوگی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 24-10-2026
مجرم کتنا ہی ڈیپ فیک کا پردہ اوڑھ لے، اسے ڈھونڈ نکالیں گے: یوگی
مجرم کتنا ہی ڈیپ فیک کا پردہ اوڑھ لے، اسے ڈھونڈ نکالیں گے: یوگی

 



لکھنؤ،: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیپ فیک کے دور میں مجرم ٹیکنالوجی کا کتنا ہی پردہ کیوں نہ اوڑھ لے، ریاست کی سائنسی اور قانونی صلاحیت اسے ڈھونڈ نکالے گی۔ وزیر اعلیٰ لکھنؤ میں واقع اتر پردیش اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف فارنسک سائنس میں منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس ’ٹیک سنگم 2026‘ کے دوسرے دن کے پروگرام کا افتتاح کررہے تھے۔ یوگی نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت ہمارے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اسے فیصلہ کن حیثیت نہیں دینی چاہیے۔

ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی سمجھ بوجھ کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ پر منحصر ہوجائے۔ مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر انحصار مستقبل میں بحران کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سائنسی شواہد، فارنسک جانچ اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے جرائم کی تحقیقات کو مؤثر بنایا جاسکتا ہے اور انصاف ملنے میں ہونے والی تاخیر کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق، اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کوانٹم فارنسکس اور قانونی ضابطوں کی پابندی کے شعبوں میں کام کرنے والے مراکزِ امتیاز کا افتتاح کیا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے رضامندی کے انتظام سے متعلق پورٹل شروع کیا، ’ابھیدیہ‘ منصوبے کی بنیاد رکھی اور ’اے آئی اِن کنسٹرکشن‘ نامی کتاب کی رونمائی کی۔ کانفرنس میں سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل شواہد، کوانٹم ٹیکنالوجی، فارنسک سائنس اور عدالتی و انتظامی امور میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ماہرین نے اپنے خیالات پیش کیے۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست میں امن و قانون کی صورت حال میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’تقریباً 100 ایکڑ زمین پر آج عالمی معیار کا فارنسک ادارہ قائم ہے۔ کبھی اس زمین پر لکھنؤ کے ایک بڑے زمین مافیا کا قبضہ تھا۔ اس وقت پولیس بھی اس معاملے میں مؤثر کارروائی نہیں کرپارہی تھی۔

سال 2017 میں پولیس افسران سے اس کی اطلاع ملنے کے بعد تحقیقات کرائی گئیں اور زمین مافیا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ دوسری ایف آئی آر درج ہوتے ہی اس نے خودسپردگی کردی اور زمین چھوڑ دی۔‘‘ آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ایک دہائی پہلے لکھنؤ میں سائبر فارنسکس اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر گفتگو کرنا بھی ایک خواب جیسا محسوس ہوتا تھا۔ آج اسی زمین پر قائم ادارہ ریاست میں سائنسی تحقیقات، جرائم کی جدید تفتیش اور تکنیکی تعلیم کو نئی سمت دے رہا ہے۔ فارنسک سائنس کی اہمیت سمجھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مشہور ٹی وی سیریل ’سی آئی ڈی‘ کی مثال دی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے لوگ ٹیلی ویژن پر دیکھتے تھے کہ کس طرح بال یا انگلیوں کے نشان کی مدد سے مجرم تک پہنچا جاتا ہے، لیکن اب فارنسک سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حقیقی زندگی میں بھی اس طرح کی تحقیقات ممکن ہورہی ہیں۔ انصاف میں تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایک مافیا کے معاملے کی مثال دی، جس نے 1980 میں پہلا جرم کیا تھا، لیکن شواہد کی کمی اور ڈی این اے کے نمونے ضائع ہوجانے کے باعث اسے 2022 میں، یعنی 42 سال بعد سزا مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مثال بتاتی ہے کہ جرائم کی تحقیقات میں سائنسی شواہد کتنے اہم ہیں اور بروقت ثبوت جمع کرنا عدالتی عمل کے لیے کیوں ضروری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ نئے فوجداری قوانین کے تحت سات سال سے زیادہ سزا والے جرائم میں فارنسک شواہد جمع کرنے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست کے تمام 18 پولیس رینج میں فارنسک لیبارٹریاں قائم کی جارہی ہیں۔ ان میں سے 12 لیبارٹریاں تیار ہوچکی ہیں، جبکہ باقی 6 آخری مرحلے میں ہیں۔ آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اس کے علاوہ 150 سے زیادہ فارنسک وین بھی تعینات کی گئی ہیں، جن کی مدد سے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد جمع کرنے اور تحقیقات میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔ اس کا مقصد سائنسی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کو مضبوط بنانا اور عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے اتر پردیش اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف فارنسک سائنس کے ’لیب کے ساتھ قانون‘ کے تصور کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائنس اور قانون کو ایک دوسرے کا معاون بننا ہوگا۔ سائنسی تحقیقات کی قابل اعتماد حیثیت اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق شواہد کے استعمال سے نظامِ انصاف کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ موجودہ دور میں ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کو ترقی کی اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اتر پردیش مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ترقی کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ہدف 2030 تک اتر پردیش میں پانچ گیگاواٹ کی ڈیٹا سینٹر صلاحیت تیار کرنا ہے۔

اس مقصد کے لیے پانچ بڑے ڈیٹا سینٹر کلسٹر قائم کرنے کی سمت میں بھی کام کیا جارہا ہے۔ آدتیہ ناتھ نے نوئیڈا میں شمالی ہندوستان کی پہلی سیمی کنڈکٹر فیب یونٹ قائم کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، ڈیٹا سینٹرز، سیمی کنڈکٹر، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری سے ریاست کی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور روزگار سمیت نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 1947 سے 2017 تک اتر پردیش میں تقریباً 14 ہزار صنعتیں قائم ہوئی تھیں، جبکہ 2017 کے بعد 35 ہزار نئی صنعتیں لگائی گئی ہیں۔

انہوں نے اس تبدیلی کو بہتر امن و قانون اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول سے جوڑا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، ریاست کے پاس تقریباً 75 ہزار ایکڑ کا لینڈ بینک ہے اور اسے 50 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ لکھنؤ میں واقع ایچ سی ایل مرکز کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2017 میں وہاں تقریباً 100 ملازمین کام کرتے تھے، جبکہ اب ان کی تعداد بڑھ کر 12,600 ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بھی رات کی شفٹ میں کام کررہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اسے ریاست میں حفاظتی ماحول میں بہتری اور کام کرنے والی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مثال قرار دیا۔

اتر پردیش اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف فارنسک سائنس کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر جی کے گوسوامی نے ادارے کے قیام اور اس کی کامیابیوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یکم اگست 2021 کو اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔ یہاں ڈی این اے، سائبر اور ڈیجیٹل فارنسکس سمیت جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم کی تحقیقات کو مزید مضبوط بنانے پر کام کیا جارہا ہے۔