معافی کی حد نہ ہونے سے جرائم بڑھ رہے ہیں: سپریم کورٹ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 08-10-2026
معافی کی حد نہ ہونے سے جرائم بڑھ رہے ہیں: سپریم کورٹ
معافی کی حد نہ ہونے سے جرائم بڑھ رہے ہیں: سپریم کورٹ

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے معاملے میں عدالتوں کے حد سے زیادہ نرم رویے کے باعث ملک میں جرائم بڑھ رہے ہیں اور اس رجحان کو ’’کہیں نہ کہیں ختم ہونا ہی ہوگا‘‘۔

جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ ایک ایسی درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں قتل کے ایک مقدمے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیے جانے کے بعد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ایک مجرم کی قبل از وقت رہائی کی درخواست کی گئی تھی۔

جسٹس دتا نے کہا کہ پہلے قتل کے مقدمات میں سزائے موت کا اصول ’’نایاب ترین میں نایاب‘‘ واقعات تک محدود تھا، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے معاف کرنے والے رویے کی وجہ سے ہی ہندوستان کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ معافی، معافی، معافی—کہیں نہ کہیں آپ کو ایک حد مقرر کرنا ہی ہوگی۔‘‘

جسٹس دتا نے ایک ایسے مقدمے کا بھی حوالہ دیا جس میں ایک شخص نے اپنی بڑی بیٹی کی عصمت دری کرنے کے بعد اسے قتل کردیا تھا اور سپریم کورٹ نے اس کی سزائے موت کم کرکے عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ماں کی گواہی کی بنیاد پر والد کو عمر قید کی سزا ہوئی اور وہ جیل چلا گیا۔ کچھ برس بعد وہ شخص پیرول پر باہر آیا اور اپنی چھوٹی بیٹی کے سامنے ہی اس کی ماں کو قتل کردیا۔

جسٹس دتا نے کہا کہ چھوٹی بیٹی کی گواہی کی بنیاد پر اسے سزائے موت سنائی گئی، لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا کہ اس نے چھوٹی بچی کو قتل نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے معاف کرنے والے رویے کا کہیں نہ کہیں خاتمہ ہونا ہی چاہیے۔‘‘