نٹھاری قتل کیس کے ملزم سریندر کولی کی ہریدوار میں مبینہ خودکشی۔ پولیس

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-09-2026
نٹھاری قتل کیس کے ملزم سریندر کولی کی ہریدوار میں مبینہ خودکشی۔ پولیس
نٹھاری قتل کیس کے ملزم سریندر کولی کی ہریدوار میں مبینہ خودکشی۔ پولیس

 



ہریدوار۔ 2006 کے نٹھاری سلسلہ وار قتل کیس میں 2025 میں سپریم کورٹ سے بری ہونے والے سریندر کولی کی ہریدوار کے بھوپت والا علاقے میں مبینہ طور پر خودکشی سے موت ہوگئی۔ پولیس نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ہریدوار پولیس کے مطابق کولی ہریدوار سٹی کوتوالی کی حدود میں واقع بھوپت والا علاقے میں رہ رہا تھا۔ وہ گزشتہ چند دنوں سے اسی علاقے میں چائے کی دکان چلا رہا تھا۔

ہریدوار سٹی کے سی او ششی پال سنگھ نیگی نے بتایا کہ سپت رشی علاقے میں ایک شخص کی مبینہ خودکشی کی اطلاع ملی تھی۔ موقع سے ملے آدھار کارڈ کی بنیاد پر اس شخص کی شناخت سریندر کولی کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرانزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم موقع کا جائزہ لے رہی ہے۔اے این آئی سے بات کرتے ہوئے نیگی نے کہا کہ سپت رشی علاقے میں ایک شخص کی خودکشی کی اطلاع ملی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ خودکشی کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ تاہم موقع سے ملنے والے آدھار کارڈ پر سریندر کولی کا نام درج ہے اور اس پر موجود پتہ بھی موقع پر ملنے والی معلومات سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ سریندر کولی کے طور پر شناخت کیے گئے شخص نے مبینہ طور پر خودکشی کی ہے اور وہ نٹھاری کیس کا ملزم رہ چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ کولی یہاں چائے کی دکان چلا رہا تھا اور کچھ عرصے سے اسی علاقے میں رہ رہا تھا۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے اور ابتدائی جانچ کررہی ہے۔ ایف ایس ایل ٹیم کے معائنے کے بعد پنچ نامہ اور پوسٹ مارٹم کی کارروائی کی جائے گی۔ پنچ نامہ اور پوسٹ مارٹم ایک میڈیکل پینل کی جانب سے کیا جائے گا۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔سریندر کولی اور تاجر مونیندر سنگھ پنڈھر پر 2006 کے نٹھاری سلسلہ وار قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب نوئیڈا میں پنڈھر کے گھر کے پیچھے واقع نالے سے بچوں کی انسانی ہڈیاں برآمد ہوئی تھیں۔گزشتہ سال سپریم کورٹ نے نٹھاری قتل کیس میں سزا یافتہ سریندر کولی کو بری کردیا تھا اور اس کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔