رام پور/لکھنؤ: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی شکایت پر جیل میں بند سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان اور ان کے تعلیمی ٹرسٹ کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈ کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا گیا اور اس معاملے میں مالی بے ضابطگیاں کی گئیں۔
سرکاری ذرائع نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ اتر پردیش پولیس نے منگل کو رام پور میں اعظم خان، مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ، دو نجی اداروں اور دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ یہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 61 (مجرمانہ سازش)، 316(5) (امانت میں خیانت)، 318(4) (دھوکہ دہی) اور انسداد بدعنوانی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اعظم خان اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف پہلے ہی 25 سے زیادہ ایف آئی آر درج ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ ای ڈی نے اعظم خان اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف درج تمام مقدمات کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت ان کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کی جا سکے۔
اسی سلسلے میں ای ڈی کے لکھنؤ علاقائی دفتر نے 10 اکتوبر کو پی ایم ایل اے کی دفعہ 66(2) کے تحت اتر پردیش کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو ای میل بھیجی تھی۔ اس میں اعظم خان کے خلاف جمع کیے گئے ’’شواہد‘‘ اور معلومات فراہم کرتے ہوئے ان کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
ذرائع نے پی ٹی آئی بھاشا کو بتایا کہ رام پور پولیس کی جانب سے درج نئی ایف آئی آر کو ای ڈی کی انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ای سی آئی آر) میں شامل کیا جائے گا۔ یہ رپورٹ 2019 میں اعظم خان اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف درج کی گئی تھی۔ ای ڈی نے اس معاملے میں اگست میں چھاپے مارے تھے اور منگل کو رام پور جیل میں اعظم خان سے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔ اعظم خان اس وقت جیل میں بند ہیں۔
اعظم خان اپنے ٹرسٹ کے سربراہ ٹرسٹی ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد اور دیگر ساتھی بھی ٹرسٹ کے ٹرسٹیوں میں شامل ہیں۔ اس ٹرسٹ کا صدر دفتر لکھنؤ میں ہے۔ ٹرسٹ رام پور ضلع میں محمد علی جوہر یونیورسٹی اور ایک نجی اسکول چلاتا ہے۔ یونیورسٹی کا قیام 2006 میں عمل میں آیا تھا۔
ای ڈی نے پولیس کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ اعظم خان، مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ، ٹھیکے داروں اور دیگر افراد کے مبینہ اقدامات انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ خط حال ہی میں درج کی گئی ایف آئی آر کا بھی حصہ ہے۔ ای ڈی کے مطابق، مبینہ بے ضابطگیوں میں سرکاری اثر و رسوخ کا استعمال کرکے ٹھیکے حاصل کرنا، سرکاری تعمیراتی کاموں کے لیے مختص رقم یونیورسٹی پر خرچ کرنا، یونیورسٹی کے نجی احاطے میں سرکاری فنڈ سے تعمیراتی کام کرانا اور اس رقم کو واپس ٹرسٹ تک پہنچانا شامل ہے۔
ای ڈی نے اتر پردیش پولیس کو بتایا کہ محکمہ انکم ٹیکس کی نومبر 2023 کی جائزہ رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی کے احاطے میں تعمیر شدہ عمارتوں پر 494.46 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ دوسری طرف، ٹرسٹ کے 2013-14 سے 2024-25 تک کے انکم ٹیکس گوشواروں میں مجموعی سرمایہ جاتی اخراجات صرف 78.32 کروڑ روپے دکھائے گئے ہیں۔ ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ اس طرح تعمیرات کی تقریباً 416.14 کروڑ روپے کی لاگت کا حساب ٹرسٹ کی ظاہر کردہ آمدنی اور اخراجات سے میل نہیں کھاتا۔