نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نہا بورا نے امن برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے بانڈ بھرنے سے متعلق دہلی پولیس کے نوٹس کو پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ نہا بورا ہائی کورٹ سے اس معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کر سکتی ہیں۔ دسہرہ کی وجہ سے اس ہفتے ہائی کورٹ میں تعطیل ہے۔ نہا بورا الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش رہی ہیں۔
ان کی عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ پولیس کے نوٹس کو منسوخ کیا جائے اور دہلی پولیس کو ہدایت دی جائے کہ وہ آئیسا کی صدر کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہ کرے۔ دہلی پولیس نے یہ نوٹس 17 اکتوبر کو جاری کیا تھا۔ اس میں نہا بورا کو بھارتی شہری تحفظ ضابطہ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 126 کے تحت بانڈ بھرنے کے لیے 19 اکتوبر کو خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ نوٹس میں ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ کیوں نہ انہیں تفتیش کی مدت کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے ایک ضمانت دار کے ساتھ 10 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ بھرنے کا حکم دیا جائے۔
بی این ایس ایس کی دفعہ 126 کے تحت اگر قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر یہ اندیشہ ہو کہ کوئی شخص امن و امان میں خلل ڈال سکتا ہے، عوامی سکون کو متاثر کر سکتا ہے یا ایسا غلط کام کر سکتا ہے جس سے امن خراب ہونے کا خدشہ ہو، تو خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ اسے امن برقرار رکھنے کے لیے بانڈ بھرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ نہا بورا کو 16 اکتوبر کو اس وقت احتیاطی حراست میں لیا گیا تھا، جب وہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (کوجپا) کے ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں۔ انہیں 17 اکتوبر کو رہا کر دیا گیا تھا۔
وکیل ابھیک چمنی کے توسط سے دائر عرضی میں نہا بورا نے کہا ہے کہ پولیس کا نوٹس مبہم ہے، حقائق کے اعتبار سے غلط ہے اور اس میں امن و امان خراب ہونے کے خدشے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مواد یا معلومات پیش نہیں کی گئی ہیں۔ عرضی کے مطابق، خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے جاری کارروائی کی بنیاد 16 اکتوبر کو منڈی ہاؤس میں مبینہ نعرے بازی، بھارتی شہری تحفظ ضابطہ کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ ہونے کے باوجود جنتر منتر کے آس پاس بار بار ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور 16 اکتوبر کو کناٹ پلیس میں مظاہرے کے لیے لوگوں کو اکسانے کے الزامات پر رکھی گئی ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے، ’’یہ نوٹس بادی النظر میں ایک غلط حقیقت پر مبنی ہے کہ عرضی گزار نے لوگوں کو 16 اکتوبر کو کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں مظاہرے میں شرکت کے لیے اکسایا تھا۔ عرضی گزار کی اپیل اور مبینہ واقعہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔ نہا بورا نے 16 اکتوبر 2026 کو شام پانچ بجے منڈی ہاؤس میں ایک پُرامن اجتماع کی اپیل کی تھی اور ریکارڈ سے یہ بات واضح ہے کہ انہیں منڈی ہاؤس سے ہی حراست میں لیا گیا تھا۔‘‘