مفتی منظور ضیائی کی اپیل: بچوں کو سیاسی مظاہروں میں بھیجنے سے گریز کریں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
مفتی منظور ضیائی کی اپیل: بچوں کو سیاسی مظاہروں میں بھیجنے سے گریز کریں
مفتی منظور ضیائی کی اپیل: بچوں کو سیاسی مظاہروں میں بھیجنے سے گریز کریں

 



ممبئی: انٹرنیشنل صوفی کارتواں کے سربراہ مفتی منظور ضیائی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حالیہ سیاسی مظاہروں میں اپنے بچوں کو بھیجنے سے گریز کریں اور ان کے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن یہ حق قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔ ایسے مظاہروں سے دور رہنا ضروری ہے جہاں بدامنی پھیلنے یا ملک کی شبیہ متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔

مفتی منظور ضیائی نے کہا کہ بچوں کو آگے چل کر ملازمتیں حاصل کرنی ہیں اور ملک و قوم کی خدمت بھی کرنی ہے۔ اگر وہ غیر محتاط انداز میں سیاسی مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں اور ان کے خلاف پولیس مقدمات درج ہو جاتے ہیں تو اس کے منفی اثرات ان کے مستقبل پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ان کے لیے ملازمت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور انہیں قانونی کارروائیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے ان رہنماؤں کے طرز عمل پر بھی سوال اٹھایا جو مسلمانوں سے اپنے بچوں کو مذہبی شناخت کے ساتھ مظاہروں میں بھیجنے کی اپیل کرتے ہیں۔ مفتی منظور ضیائی نے سوال کیا کہ اگر ان بچوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے اور انہیں جیل جانا پڑے گا تو ان کی مدد کے لیے کون آگے آئے گا؟ ان کے بقول ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے حالات میں بچوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے رہنما عموماً سامنے نہیں آتے جبکہ چندہ جمع کرنے کے لیے ضرور پہنچ جاتے ہیں۔

مفتی منظور ضیائی نے کہا کہ انہوں نے دہلی اور ممبئی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں کے حالات کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان کے مطابق کئی مقامات پر احتجاج کے دوران گالی گلوچ اور غیر مناسب طرز عمل دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد اپنے مطالبات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہونا چاہیے نہ کہ ایسا ماحول پیدا کرنا جس سے بدامنی پھیلے یا ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔

انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کو اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ اگر کسی معاملے میں ناانصافی ہو رہی ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔ لوگ تحریر اور قلم کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کریں اور اگر دھرنے کی ضرورت ہو تو اسے قانونی حدود میں رہ کر منظم کریں۔ اسی طرح انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی راستہ اختیار کرکے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا زیادہ مؤثر اور ذمہ دارانہ طریقہ ہے۔

مفتی منظور ضیائی نے کہا کہ ایسے مظاہروں میں بچوں کی شرکت کے دوران یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ بعض دوسرے عناصر صورت حال کو خراب کر سکتے ہیں اور احتجاج کو غیر متوقع رخ دے سکتے ہیں۔ اس لیے والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت اور مستقبل کے حوالے سے خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔آخر میں انہوں نے مسلمانوں کے علما سے اپیل کی کہ وہ مساجد اور درگاہوں کے ساتھ خانقاہوں میں بھی نوجوانوں اور بچوں کی رہنمائی کریں۔ انہیں بتایا جائے کہ احتجاج کرنا ان کا حق ہے لیکن اس حق کا استعمال قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ والدین اور سماجی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے حالات سے محفوظ رکھیں جو ان کی تعلیم اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔