نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو جھارکھنڈ کی آئی اے ایس افسر پوجا سنگھل کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کو جاری رکھنے کی راہ ہموار کرتے ہوئے نچلی عدالت کے اس حکم کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا، جس کے ذریعے ان کے خلاف جرم کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ شروع کیا گیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ اس معاملے میں جرم کا نوٹس کافی عرصہ پہلے لیا جا چکا ہے۔
پوجا سنگھل کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل میناکشی اروڑہ نے کہا کہ اس معاملے میں کسی انتظامی افسر کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضابطۂ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 197 کے تحت ضروری منظوری نہیں لی گئی تھی۔ اروڑہ نے کہا کہ جب مقدمہ چلانے کی منظوری نہ لیے جانے پر اعتراض کیا گیا تو ای ڈی نے دلیل دی کہ نئے قانون بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کے تحت ’’خود بخود منظوری تصور کیے جانے‘‘
کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھل بدعنوانی کے معاملے میں ملزم نہیں ہیں اور جہاں تک منی لانڈرنگ کے مقدمے کا تعلق ہے، انہوں نے اپنے سرکاری عہدے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے تھے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ پوجا سنگھل کے پاس سے 19 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم برآمد ہوئی تھی۔ بنچ نے فی الحال کسی بھی قسم کی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ چلانے کی منظوری کا معاملہ قانون اور حقائق دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ مبینہ جرم کے وقت افسر اپنی سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہی تھیں یا نہیں۔
عدالت نے کہا، ’’ہم (مقدمہ چلانے کی) منظوری کے معاملے کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ کارروائی کے مناسب مرحلے پر دیگر شواہد کے ساتھ اس پر فیصلہ کیا جا سکے۔‘‘ ای ڈی نے مرکزی حکومت کی اہم دیہی روزگار اسکیم منریگا کے نفاذ میں مبینہ طور پر 18 کروڑ روپے کے گھپلے کے سلسلے میں پوجا سنگھل سے متعلق ٹھکانوں پر چھاپہ مار کارروائی کے بعد 11 مئی 2022 کو انہیں گرفتار کیا تھا۔ دو سال سے زیادہ عرصے تک جیل میں رہنے کے بعد ضمانت ملنے پر بھارتی انتظامی سروس (آئی اے ایس) کی 2000 بیچ کی افسر پوجا سنگھل کی معطلی ختم کر دی گئی تھی۔
انہوں نے ای سی آئی آر کیس نمبر 3/2018 کے سلسلے میں رانچی کی منی لانڈرنگ روک تھام قانون (پی ایم ایل اے) عدالت کے 19 جولائی 2022 کے اس حکم کو منسوخ کرنے کے لیے جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں عدالت نے ان کے خلاف جرم کا نوٹس لیا تھا۔ سنگھل نے کہا تھا کہ پی ایم ایل اے کی دفعات 3 اور 4 کے تحت جرائم کا نوٹس سی آر پی سی، 1973 کی دفعہ 197 کے تحت ضروری منظوری کی شرط پوری کیے بغیر لیا گیا۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نجی طور پر کیے گئے ’’غیر قانونی کاموں‘‘ سے متعلق معاملات میں مقدمہ چلانے کے لیے سی آر پی سی کی دفعہ 197 کے تحت منظوری لینا ضروری نہیں ہے۔
جولائی 2022 میں ای ڈی نے کئی ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ان میں پوجا سنگھل، ان کے شوہر ابھیشیک جھا، ان کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سمن کمار، جونیئر انجینئر رام بنود سنہا، اسسٹنٹ انجینئر راجندر جین، ایگزیکٹو انجینئر جے کشور چودھری اور ششی پرکاش شامل تھے۔