نئی دہلی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی ثقافتی تقریروں کے اردو مجموعے ’تہذیب کا پانچواں باب‘ کی اجرا تقریب میں مقررین نے ہندوستان کی تہذیبی روایت اور لسانی و ثقافتی تنوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ پدم بھوشن رام بہادر رائے نے کتاب کو ہندوستان کے ثقافتی احیا کے نئے دور کی ترجمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی تقریریں ہندوستان کے ثقافتی انقلاب کی عکاسی کرتی ہیں۔ پدم شری چامو کرشن شاستری نے کہا کہ لسانی و ثقافتی تنوع کو قومی اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے نہ کہ تفرقہ و انتشار کا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے ہندوستانی تہذیب کو پوری دنیا کے لیے مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنوع اور رنگارنگی ہی ہندوستان کی بنیادی شناخت ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے زیر اہتمام 18 اکتوبر 2026 کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی ثقافتی تقریروں کے مجموعے ’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘ کے اردو ترجمے ’تہذیب کا پانچواں باب‘ کی اجرا تقریب اور مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس کے صدر پدم بھوشن رام بہادر رائے نے کی جبکہ بھارتیہ بھاشا سمیتی کے چیئرمین پدم شری چامو کرشن شاستری مہمان خصوصی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف مہمان اعزازی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
رام بہادر رائے نے اپنے صدارتی خطاب میں قومی اردو کونسل اور اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی۔ انہوں نے ترجمے کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اچھے ترجمے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری کو پڑھتے ہوئے اس کے ترجمہ ہونے کا احساس نہ ہو۔ ان کے مطابق ’تہذیب کا پانچواں باب‘ اس معیار پر پورا اترتا ہے۔
کتاب کے عنوان کی وضاحت کرتے ہوئے رام بہادر رائے نے معروف ادیب رام دھاری سنگھ دنکر کی تصنیف ’سنسکرتی کے چار ادھیائے‘ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنکر کی کتاب ہندوستان کے چار اہم ثقافتی انقلابات کی داستان بیان کرتی ہے۔ ان کے بقول 2014 سے ہندوستان میں ثقافتی احیا کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے جس کی قیادت وزیراعظم نریندر مودی کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ان کی ثقافتی تقریروں کے مجموعے کو ’تہذیب کا پانچواں باب‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہندوستانی ثقافت کو سمجھنے کے نئے زاویے فراہم کرتی ہے اور متعدد اہم سوالات کے جواب بھی پیش کرتی ہے۔
مہمان خصوصی چامو کرشن شاستری نے قومی اردو کونسل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے گزشتہ دو ڈھائی برسوں میں ادارے کے نظم و نسق اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے ساتھ اہم اشاعتی کام بھی انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی گزشتہ 12 برسوں کی یوم آزادی کی تقریروں کے اردو ترجمے کی اشاعت کے بعد ثقافتی تقریروں کے دوسرے مجموعے کا اردو ترجمہ بھی قابل ستائش قدم ہے۔ اس سے اردو قارئین کو وزیراعظم کے افکار و خیالات سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
چامو کرشن شاستری نے تجویز پیش کی کہ اس کتاب پر ہندوستان کے کم از کم 20 سے 25 بڑے تعلیمی اداروں میں مذاکرے منعقد کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بھارتیہ بھاشا سمیتی کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ہندوستان کے لسانی تنوع کو ملک کی خوبصورتی اور طاقت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زبانوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کرنے کے بجائے ان کی مشترکہ خصوصیات پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق ہندوستانی زبانوں کی بنیادی ساخت میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں اور ان مماثلتوں کو فروغ دینے سے تمام زبانوں کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تنوع سے قربت اور قربت سے ہندوستانیت کا سفر ہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔
مہمان اعزازی پروفیسر مظہر آصف نے حضرت امیر خسرو اور علامہ اقبال سمیت مختلف علمی و ادبی حوالوں سے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب اپنی رنگارنگی اور تنوع کے باعث پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی یہ کتاب ہندوستانیت کے اسی تصور کو پیش کرتی ہے اور تاریخ تہذیب و ثقافت کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔
تقریب کے آغاز میں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی اہم ثقافتی تقریروں کے اردو ترجمے کی اشاعت سے اردو قارئین کو ہندوستانی ثقافت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ قومی اردو کونسل زبان و ادب کے ساتھ ساتھ ہندوستانی ثقافت اور ورثے سے متعلق کتابیں بھی شائع کرتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں ’دل کی گیتا‘ یعنی شریمد بھگوت گیتا کا ترجمہ ’ارتھ شاستر‘ ’پتنجلی کا فلسفۂ یوگ‘ ’پرانوں کی کہانیاں‘ ’آریہ سماج کی تاریخ‘ ’امیر خسرو: ایک ہمہ جہت شخصیت‘ ’گرونانک: حیات و خدمات‘ ’سراکر‘ یعنی پچاس اپنشدوں کا ترجمہ ’مجمع البحرین‘ ’سکینۃ الاولیا‘ ’داراشکوہ: آثار و افکار‘ اور ’قیام امن ایک جستجو‘ جیسی تصانیف قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’تہذیب کا پانچواں باب‘ بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے کتاب کے مرتب پربھات اوجھا اور مترجم ڈاکٹر جاوید عالم کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ اس موقع پر مرتب اور مترجم نے اپنے تاثرات پیش کیے جبکہ تقریب کے اختتام پر قومی اردو کونسل کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکیڈمک ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض خسرو فاؤنڈیشن نئی دہلی کے کنوینر ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے انجام دیے۔
تقریب میں دہلی اور اطراف کے متعدد اہل علم و دانشوروں نے شرکت کی۔ ان میں ڈاکٹر خالد صدیقی پروفیسر افشار عالم پروفیسر چندر شیکھر ڈاکٹر بدھا چندر شیکھر پروفیسر رضوان الرحمن پروفیسر اخلاق آہن پروفیسر احمد محفوظ پروفیسر خواجہ عبدالمنتقم ڈاکٹر ارشاد نیازی ڈاکٹر رحیل صدیقی ڈاکٹر اے کے مرچنٹ فیروز بخت احمد راکیش یادو ڈاکٹر مظہر محمود شعیب رضا فاطمی آصف اعظمی مظفر حسین غزالی ڈاکٹر جاوید حسن عمران چودھری ڈاکٹر لیاقت علی ڈاکٹر زبیر خان سعیدی محمد انظار عالم جمشید احمد علیگ حبیب سیفی اور ڈاکٹر امیر حمزہ سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔