جموں: جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ باجرہ اور دیگر موٹے اناج کو ہندوستانی خوراک اور زراعت کے مرکزی دھارے میں دوبارہ لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ روایتی فصلیں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والی زراعت کو مضبوط بنانے، کسانوں کی آمدنی بہتر کرنے اور صحت مند و پائیدار غذائی نظام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ’’صحت کے لیے موٹے اناج: صحت مند ماحولیاتی نظام، موسمیاتی تبدیلی سے مقابلہ کرنے والی زراعت اور پائیدار غذائی نظام کی تعمیر‘‘ کے موضوع پر قومی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ موٹے اناج صدیوں سے ہندوستان کی زرعی روایت کا حصہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج سائنس نئی تحقیق اور شواہد کے ذریعے اس روایتی علم کو سمجھ رہی ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں، وہ بھی اس حقیقت کو سمجھ رہے ہیں کہ مستقبل کی خوراک صرف ایسی نہیں ہوگی جسے بڑی مقدار میں پیدا کیا جا سکے، بلکہ وہ غذائیت سے بھرپور، کسانوں کے لیے فائدہ مند اور ماحول کے لیے پائیدار بھی ہونی چاہیے۔ سنہا نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ موٹے اناج کو دوبارہ معاشرے کی غذائی ترجیحات میں نمایاں مقام دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق باجرہ اور دیگر موٹے اناج ایسی فصلیں ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو نسبتاً بہتر طور پر برداشت کر سکتی ہیں اور غذائیت سے بھی بھرپور ہوتی ہیں۔
عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے درمیان انہیں چاول، گیہوں اور مکئی جیسی زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کے متبادل کے طور پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔ سنہا نے موٹے اناج کی زرعی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جوار، باجرہ، راگی، کوڈو باجرہ، کُٹکی، کنگنی اور سانوا جیسی فصلوں نے کئی نسلوں تک ہندوستان کے کسانوں اور خاندانوں کی غذائی ضروریات پوری کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں چھوٹے اور معمولی کسانوں کے خاندان کئی دہائیوں تک ان فصلوں پر انحصار کرتے رہے۔ اس وقت جدید آبپاشی کی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں، چھوٹے کسانوں کو کھاد تک مناسب رسائی حاصل نہیں تھی اور موسم کی درست پیش گوئی بھی ممکن نہیں تھی۔ اس کے باوجود موٹے اناج مشکل موسمی حالات میں بھی پیدا ہوتے تھے اور کسان خاندانوں کو سہارا دیتے تھے۔ لیفٹننٹ گورنر نے پدم شری ڈاکٹر خدر ولی، جنہیں عام طور پر ’’ہندوستان کا ملیٹ مین‘‘ کہا جاتا ہے، اور ’کھیتی ورثہ مشن‘ کے اومندر دت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نامیاتی اور قدرتی زراعت کے طریقوں کو فروغ دینے اور محفوظ رکھنے کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔
سنہا نے کہا کہ قومی ملیٹس مشن کے ذریعے جموں و کشمیر میں بھی موٹے اناج کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں ان کی کوششیں اہم ہیں۔ سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 80 فیصد سے زیادہ کسان چھوٹے اور معمولی درجے کے ہیں اور ان کا انحصار بڑی حد تک غیر یقینی موسمی حالات پر ہے۔ ان کے مطابق موٹے اناج کو نسبتاً کم پانی اور کم زرعی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے یہ کسانوں کو موسمیاتی اور اقتصادی خطرات سے نمٹنے میں زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ موٹے اناج کی کاشت کو خود انحصاری کی طرف ایک راستے کے طور پر اپنائیں۔
سنہا نے کہا، ’’میں موٹے اناج کے مشن کو اپنے گاؤں کے سب سے چھوٹے کسان کے لیے سب سے بڑی امید کے طور پر دیکھتا ہوں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پلان کے تحت ایک حکمت عملی تیار کی ہے، جس کا مقصد آنے والی نسلوں کی صحت، کسانوں کی خوشحالی اور ماحول کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق موٹے اناج کی کاشت جموں و کشمیر کے معمولی کسانوں میں اعتماد پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت سے وابستہ خطرات کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ سنہا نے کہا، ’’آپ کی زمین کا رقبہ چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، خود کفیل جموں و کشمیر کی تعمیر میں آپ کا تعاون کبھی چھوٹا نہیں ہو سکتا۔‘
‘ لیفٹننٹ گورنر نے موٹے اناج کے غذائی فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں غذائی فائبر، کم گلیسیمک انڈیکس اور آئرن، کیلشیم، میگنیشیم اور زنک جیسے اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی خوراک میں باجرے کی روٹی، راگی سے تیار پکوان اور سانوا کے چاول جیسی غذائیں شامل کریں۔ ان کے مطابق اس سے ذیابیطس، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر جیسے طرز زندگی سے جڑے صحت کے مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سنہا نے موٹے اناج کے اقتصادی امکانات پر بھی زور دیا اور کہا کہ کھیت سے بازار تک مکمل ’’ملیٹ اکانومی‘‘ تیار کرنے اور ان سے تیار ہونے والی قدر افزا مصنوعات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 2024-25 میں تقریباً 1.8 کروڑ ٹن موٹے اناج پیدا کیے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 38 فیصد ہے۔ ایسی صورت میں موٹے اناج سے تیار ہونے والی قدر افزا مصنوعات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس اور نوجوان کاروباری افراد کو موٹے اناج سے متعلق کاروبار، پیکیجنگ اور برانڈنگ کے شعبوں میں آگے آنے کی ترغیب دی۔ اس کے لیے ’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘ جیسی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔ سنہا نے کسانوں، محققین، ڈاکٹروں، کاروباری افراد اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مل کر ایسے غذائی نظام کی تعمیر کے لیے کام کریں جو زیادہ متنوع، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو۔