نئی دہلی: آن لائن بچوں کے جنسی استحصال اور دیگر نقصان دہ مواد کے خلاف حکومت کی سخت کارروائی کے درمیان میٹا نے بچوں کے تحفظ سے متعلق معاملات کی معلومات براہِ راست انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی4سی) کے زیر انتظام سائبر کرائم پلیٹ فارم کو دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ مرکزی حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مضبوط حفاظتی اقدامات اور زیادہ جواب دہی یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے۔ میٹا کے ایک ترجمان نے کہا کہ پلیٹ فارم پر بچوں کا تحفظ کمپنی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ اس طرح کے جرائم کرنے والوں کو جواب دہ ٹھہرایا جا سکے۔‘
‘ ترجمان نے مزید کہا، ’’اس نقصان سے اجتماعی طور پر نمٹنے کی ہماری کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے میٹا اب بچوں کے تحفظ سے متعلق معاملات کی معلومات براہِ راست آئی4سی کے زیر انتظام سائبر کرائم پلیٹ فارم کو دے گا۔‘‘ امریکی کمپنی میٹا ہندوستان میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو براہِ راست معلومات فراہم کرنے کا نظام قائم کرنے کے عزم کا اظہار کرنے والی پہلی بڑی ٹیکنالوجی انٹرمیڈیری کمپنی ہے۔
اب تک میٹا بچوں کے تحفظ سے متعلق معاملات کی معلومات امریکہ میں قائم نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئٹڈ چلڈرن کو فراہم کرتا رہا ہے۔ اس سے قبل سرکاری ذرائع نے منگل کو بتایا تھا کہ میٹا نے بچوں کے تحفظ سے متعلق معاملات کی معلومات متعلقہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ہندوستان میں کام کرنے والے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے بچوں کا آن لائن تحفظ ’’بنیادی اصول‘‘ ہے اور اس پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت نے کہا ہے کہ جو پلیٹ فارم آن لائن بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کرنے میں ناکام رہیں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس سے نقصان دہ مواد اور سرگرمیوں سے نابالغوں کو بچانے کی ذمہ داری کے معاملے میں حکومت کے سخت موقف کا پتہ چلتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت دیگر آن لائن پلیٹ فارم کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ایسے مواد کی فعال طور پر شناخت کرکے اسے ہٹائیں۔ حکام کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق معاملات کی معلومات قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو دینے کا میٹا کا عزم بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے کی سمت میں پہلا قدم ہے اور ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔
حکومت نے بچوں کے جنسی استحصال کے مواد اور ڈیپ فیک سمیت نقصان دہ اور غیر قانونی آن لائن مواد کے معاملے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانچ بھی بڑھا دی ہے۔ ڈیپ فیک مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ایسی تصاویر اور ویڈیوز ہوتی ہیں جو جعلی ہونے کے باوجود حقیقی دکھائی دیتی ہیں۔ حکومت نے ایسے مواد سے نمٹنے کے طریقہ کار کو لے کر میٹا کو نوٹس بھی جاری کیا تھا اور حال ہی میں اس ٹیکنالوجی کمپنی کے عالمی عہدیداروں کو ہندوستان طلب کیا تھا۔ مرکز نے تمام پلیٹ فارم سے نقصان دہ مواد کو فوری طور پر ہٹانے، مضبوط حفاظتی اقدامات کرنے اور زیادہ جواب دہی یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔ حکومت نے واضح کیا تھا کہ ہندوستانی قوانین پر عمل نہ کرنے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جولائی میں حکومت نے انسٹاگرام پر معاوضہ لے کر چلائے جانے والے اشتہارات میں بچوں کے جنسی استحصال اور جنسی بدسلوکی سے متعلق مواد (سی ایس ای اے ایم) کے معاملے میں میٹا کو نوٹس جاری کیا تھا۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) نے انسٹاگرام کو سی ایس ای اے ایم کو فروغ دینے یا اس تک رسائی فراہم کرنے والے تمام اشتہارات اور مواد کو غیر فعال کرنے کا حکم دیا تھا اور تفصیلی وضاحت بھی طلب کی تھی۔ اس کے بعد میٹا کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ کئی دور کی بات چیت ہوئی۔ اس دوران آئی ٹی وزارت نے واضح طور پر کہا کہ ایسا مواد قواعد کی خلاف ورزی ہے اور اسے ’سیف ہاربر‘ تحفظ کے دائرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
’سیف ہاربر‘ ایک قانونی شق ہے جو انٹرنیٹ انٹرمیڈیری اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے گئے مواد کے لیے قانونی ذمہ داری یا مقدمات سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر) نے پلیٹ فارم پر بچوں کے جنسی استحصال اور جنسی بدسلوکی سے متعلق مواد کے مبینہ اشتہارات کی اپنی تحقیقات کے سلسلے میں میٹا انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سربراہ کو طلب کیا تھا۔ بچوں کے حقوق کے ادارے نے سی ایس ای اے ایم سے متعلق مبینہ اشتہارات کے بارے میں بی بی سی کی ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے میٹا سے وضاحت طلب کی تھی۔