نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو میٹا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کو ہدایت دی کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک خاتون کی چھیڑ چھاڑ کرکے تیار کی گئی تصویر سے متعلق قابل اعتراض مواد فوری طور پر ہٹا دیں۔ جسٹس گریش کٹھپالیا نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے، جہاں معاملہ صرف ایک خاتون کا نہیں بلکہ ملک کے وزیر اعظم کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہلی پولیس اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے تو عدالت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پولیس حساسیت کے ساتھ کارروائی کرے۔
ہائی کورٹ نے کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) کے رہنماؤں سورَو داس، ابھیجیت دپکے، آشوتوش رانکا اور رتنا سنگھ کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ ان لوگوں نے اس کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور اسے وزیر اعظم کی تصویر کے ساتھ جوڑ کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 14 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ متعلقہ خاتون کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔
خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ خاتون کی درخواست میں کاجپا رہنماؤں پر وزیر اعظم مودی کے ساتھ اس کی ’ڈیپ فیک فحش تصاویر‘ پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ درخواست میں ایسی من گھڑت اور ڈیپ فیک تصاویر کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جن میں وزیر اعظم کے ساتھ خاتون کی قابل اعتراض تصاویر دکھائی گئی ہیں اور اس کے چہرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔
خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پہلے ہی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ تاہم، انہوں نے دلیل دی کہ ذمہ دار افراد کو گرفتار کرنے یا وائرل ڈیپ فیک لنکس کو فوری طور پر ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) کے احتجاج کے دوران کاجپا کے رہنماؤں اور ان کے سرگرم ساتھیوں نے مبینہ طور پر بغیر اجازت درخواست گزار کی نجی تصویر حاصل کی۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ’فیس سوئپنگ ٹول‘ کا استعمال کرتے ہوئے اس کے چہرے کو وزیر اعظم کے ساتھ ایک انتہائی فحش اور قابل اعتراض تصویر میں جوڑ دیا گیا۔