مایاوتی نے ای وی ایم ختم کرکے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا مطالبہ کیا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
مایاوتی نے ای وی ایم ختم کرکے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا مطالبہ کیا
مایاوتی نے ای وی ایم ختم کرکے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا مطالبہ کیا

 



لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے اپنی پرانی مانگ دہراتے ہوئے پیر کو کہا کہ انتخابات میں ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشین) کا استعمال فوری طور پر بند کیا جائے اور اس کی جگہ بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کا نظام دوبارہ شروع کیا جائے۔

لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر لگائے جانے والے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات پر سب کا اعتماد دوبارہ قائم کرنے کے لیے بی ایس پی کا پُرزور مطالبہ ہے کہ ای وی ایم کے ذریعے انتخابات فوری طور پر بند کیے جائیں اور اس کی جگہ بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔‘‘

مایاوتی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ای وی ایم کو ریموٹ نظام کے ذریعے متاثر یا ہیک کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی ووٹر کو یہ یقین نہیں دلایا جا سکتا کہ اس کا ووٹ اسی امیدوار کے حق میں شمار ہوا ہے، جسے اس نے ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق پھیلی غلط فہمیوں کو بھی دور کیا جانا چاہیے، تاکہ ملک میں جمہوریت کا صحیح طریقے سے تحفظ ہو سکے۔

ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ بی ایس پی نے شروع ہی سے ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کی مخالفت کی تھی۔ جب اس کی بات نہیں سنی گئی تو پارٹی نے ای وی ایم سے متعلق انتخابی عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ای وی ایم کے استعمال کو ختم کرنے کے بجائے اس کے ساتھ وی وی پی اے ٹی لگانے کا نظام نافذ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

مایاوتی نے دعویٰ کیا، ’’وی وی پی اے ٹی لگائے جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور ای وی ایم سے ووٹوں کی گنتی کے دوران تمام وی وی پی اے ٹی پرچیوں کی گنتی نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے ان کا ووٹوں کی گنتی سے موازنہ نہیں ہو پاتا۔‘‘ انہوں نے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی، اس وقت سب سے پہلے بی جے پی نے یہ کہتے ہوئے ای وی ایم کی مخالفت کی تھی کہ یہ ایسی مشین ہے جس میں موجود چِپ کو آسانی سے ہیک کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے ثبوت کے طور پر بی جے پی کی جانب سے ایک کتاب بھی شائع کی گئی تھی۔

بی ایس پی سربراہ نے بی جے پی کے اس وقت کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ای وی ایم کا غلط استعمال کرکے کانگریس انتخابات جیت جاتی ہے۔ یہ بات کتاب میں بھی لکھی گئی تھی اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسی وجہ سے زیادہ تر ممالک میں ای وی ایم کا استعمال نہیں ہوتا۔

بی جے پی نے ملک میں ای وی ایم کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ بی جے پی انتخابات جیت کر مرکز میں اقتدار میں آئی تو اس نے ای وی ایم کا استعمال ختم کرنے کے بجائے اسی کے ذریعے ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری رکھا۔