ندوہ کے مہتمم مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا 92 سال کی عمر میں انتقال

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا 92 سال کی عمر میں انتقال
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا 92 سال کی عمر میں انتقال

 



لکھنؤ: دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے مہتمم مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا بدھ کو 92 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ اسپتال نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ ان کے انتقال سے علمی و دینی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی بن محمد ایوب اعظمی عربی زبان و ادب کے ممتاز عالم، ادیب، ناقد اور صحافی تھے۔ وہ طویل عرصے تک تاریخی ادارے دار العلوم ندوۃ العلماء کی سربراہی کرتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ لکھنؤ کی انٹیگرل یونیورسٹی کے چانسلر بھی تھے۔

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی ولادت 14 مئی 1935 کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش میں ہوئی تھی۔ ان کے والد محمد ایوب اعظمی معروف عالم دین اور محدث تھے۔ ابتدائی تعلیم مئو کے مدرسہ مفتاح العلوم میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء سے عربی ادب میں تخصص کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں عربی ادب کے استاد مقرر ہوئے۔ 1958 میں وہ بغداد گئے، جہاں عربی زبان و ادب کے معروف عالم اور ادیب ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے تقریباً ایک سال تک استفادہ کیا۔ 1993 سے 1999 تک وہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا کے عمید رہے۔ سال 2000 سے وہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے منصب اہتمام پر فائز تھے۔

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی صحافتی خدمات بھی نمایاں رہیں۔ وہ سید محمد الحسنی کے قائم کردہ ’المنتدی العربی‘ سے وابستہ رہے اور 1955 میں ’مجلۃ البعث الاسلامی‘ کے اجرا کے وقت اس کی ادارت میں بھی شریک تھے۔ محمد الحسنی کے 1979 میں انتقال کے بعد وہ اس عربی مجلے کے مدیر اعلیٰ رہے۔ وہ عربی پندرہ روزہ ’الرائد‘ کے نائب مدیر بھی رہے۔ وہ پچاس سال سے زیادہ عرصے تک دار العلوم ندوۃ العلماء کی مسجد کے امام اور خطیب بھی رہے۔ دعوتی مقاصد کے لیے انہوں نے متعدد ممالک کا سفر کیا۔ وہ عالمی رابطہ ادب اسلامی کے رکن، دینی تعلیمی کونسل کے نائب صدر اور کئی مدارس کے ناظم و سرپرست بھی رہے۔

لکھنؤ کی انٹیگرل یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے بھی انہوں نے طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے عربی اور اردو میں متعدد کتابیں تصنیف کیں اور کئی اہم کتابوں کا اردو سے عربی میں ترجمہ کیا۔ ان کی عربی تصانیف میں ’شعراء الرسول‘، ’ساعة مع العارفين‘، ’صور من واقع الدين‘، ’جاهلية اللغة وجنايتها على الدين والإنسانية‘، ’أحمد بن عرفان المجاهد الشهيد‘، ’ندوة العلماء تواجه التحدي الكبير‘ اور ’الدعوة الإسلامية: منجزات، مشكلات، طرق المعالجة‘ شامل ہیں۔ ان کی اردو کتابوں میں ’48 سال شفقتوں کے سائے میں‘، ’علم التصریف‘، ’خطبات علم و دعوت‘ اور ’اسوۂ نبوی کے آئینے میں‘ قابل ذکر ہیں۔

انہوں نے متعدد معروف اردو کتابوں کا عربی میں ترجمہ بھی کیا، جن میں محمد زکریا کاندھلوی، امین احسن اصلاحی، ابوالحسن علی ندوی، محمد منظور نعمانی اور محمد شفیع عثمانی کی تصانیف شامل ہیں۔ عربی زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے 1994 میں انہیں صدر جمہوریہ ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال کو دار العلوم ندوۃ العلماء اور عربی زبان و ادب کے علمی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔