گڑچیرولی: پڑوسی ریاست چھتیس گڑھ میں شدید بارش کے باعث آنے والے سیلاب کے بعد مہاراشٹر کے گڑچیرولی ضلع میں تقریباً 525 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ضلع حکام نے یہ اطلاع دی۔ ضلع حکام کے مطابق بھامرا گڑھ علاقے میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام جمعرات کی دوپہر شروع ہوا اور رات دیر تک جاری رہا۔ اب سیلابی پانی کم ہونا شروع ہوگیا ہے، جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ ضلع کلکٹر اویشیانت پانڈا کی رہنمائی اور تحصیلدار کشور باگڑے کی قیادت میں مقامی انتظامیہ نے راحت اور بچاؤ کا کام شروع کیا۔
حکام نے کہا کہ رہائشیوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دی گئی ہے اور متاثرہ علاقوں کے حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایک اہم بچاؤ کارروائی کے دوران بناگونڈا آشرم اسکول میں زیر تعلیم ایک بیمار لڑکی کو این ڈی آر ایف کی ٹیم کی مدد سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ ٹیم نے سیلابی پانی سے بھرے گوندینور نالے کو پار کرانے کے بعد لڑکی کو علاج کے لیے لہیری کے پرائمری ہیلتھ سینٹر پہنچایا۔ اگرچہ اب پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، لیکن ضلع انتظامیہ نے دریاؤں کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ لوگوں کو مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے اور ان سڑکوں یا راستوں سے گزرنے سے بچنے کا مشورہ دیا گیا ہے جہاں اب بھی پانی بہہ رہا ہے۔
ادھر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلسل بارش کے باعث چھتیس گڑھ کے کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ خارون ندی کی سطح بڑھنے سے رائے پور اور درگ اضلاع کے کئی گاؤں میں پانی جمع ہوگیا ہے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے کئی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی خطرے کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ خارون ندی کی سطح بڑھنے سے کئی سڑکیں زیر آب آگئی ہیں اور دریا کے کنارے واقع کئی گاؤں میں پانی بھر گیا ہے۔ مہادیو گھاٹ کے راستے رائے پور سے پاٹن اور درگ کو جوڑنے والی سڑک بھی پانی کی سطح بڑھنے کے باعث زیر آب آگئی ہے، جس سے آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔
درگ ضلع کے املیشور اور خودمڑا گاؤں میں بھی سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جہاں پانی کی سطح کافی بڑھ گئی ہے۔ کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے باعث سڑکیں نظر نہیں آ رہی ہیں، جبکہ متعدد گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے، جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ مہادیو گھاٹ کے راستے رائے پور-بھلائی سڑک بھی پانی جمع ہونے سے متاثر ہوئی ہے۔ سڑک پر پانی کا تیز بہاؤ جاری رہنے کے باعث ٹریفک متاثر ہوئی ہے اور لوگوں کے لیے سفر کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ مسلسل بارش کے باعث نشیبی علاقوں اور دریاؤں کے کنارے رہنے والے لوگوں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ کئی مقامات پر پانی جمع ہونے سے روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے 26 ستمبر کو عام طور پر مطلع ابرآلود رہنے اور چند وقفوں میں بارش یا گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اس دوران بجلی چمکنے کے ساتھ گرج چمک کا بھی امکان ہے۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 26 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم 22 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔ 27 ستمبر کو بھی جزوی طور پر ابرآلود آسمان اور ایک دو مرتبہ بارش یا گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران بجلی چمکنے کے ساتھ گرج چمک کا امکان ہے اور درجہ حرارت 29 سے 23 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہ سکتا ہے۔