بنگلورو:، ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ انصاف اور آزادی کا تحفظ کریں اور آئینی اقدار کے تئیں اپنی وابستگی برقرار رکھیں۔ انہوں نے ہفتے کے روز کہا کہ قانون کے پیشے میں ہمت، دیانت داری اور ان لوگوں کی بات سننے کی صلاحیت ضروری ہے، جن کی آواز اکثر ان سنی کر دی جاتی ہے۔ جسٹس سوریہ کانت نے بنگلورو میں نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (این ایل ایس آئی یو) کے 34ویں سالانہ جلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانونی تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ طلبہ کو مختلف نظریات سمجھنے اور معاشرے کی خدمت کرنے کے لیے بھی تیار کرنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا، ’’میں آپ کو صرف مبارک باد ہی نہیں دیتا، بلکہ مجھے آپ سے بہت سی امیدیں بھی وابستہ ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ قانونی تعلیم کا مقصد صرف فوجداری یا آئینی قوانین کے اصول سیکھنا نہیں ہے، بلکہ ایسے لوگوں سے ملنے اور ان کے خیالات سمجھنے کا تجربہ حاصل کرنا بھی ہے، جو دنیا کو ہم سے مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ قانونی پیشے کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ صرف قوانین اور عدالتوں کے سابقہ فیصلوں کی معلومات ہونا کافی نہیں۔ اس پیشے میں انصاف کے حق میں کھڑے ہونے کی ہمت اور ان لوگوں کے مسائل سننے کے لیے عاجزی بھی ضروری ہے، جن کی آواز کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’وکالت کا پیشہ کمزور دل لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ اس کے لیے نہ صرف قوانین اور عدالتوں کے سابقہ فیصلوں کی گہری سمجھ ضروری ہے، بلکہ صحیح بات کے حق میں کھڑے ہونے کا حوصلہ اور ان لوگوں کی بات سننے کے لیے عاجزی بھی درکار ہے، جن کی آواز اکثر ان سنی رہ جاتی ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے طلبہ کو خبردار کیا کہ وہ اپنی سہولت کے لیے اصولوں سے سمجھوتہ نہ کریں اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آسان راستے اختیار کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ اس ادارے میں حاصل کی گئی اقدار کو زندگی بھر اپنے ساتھ رکھیں اور انہی کے مطابق کام کریں۔
قانون کے ذریعے معاشرے کی خدمت سے حاصل ہونے والے اطمینان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وکیل ناانصافی کا خاتمہ کرنے، لوگوں کی شخصی آزادی کا تحفظ کرنے اور آئینی اقدار کو برقرار رکھنے کے ذریعے حقیقی اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت نے طلبہ سے ملک کے تئیں اپنی وسیع تر ذمہ داری کو سمجھنے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک ان سے صرف وکیل کی حیثیت سے کام کرنے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا، ’’جب آپ اس ادارے سے تعلیم مکمل کرکے عملی دنیا میں قدم رکھیں گے تو یاد رکھیے گا کہ ملک آپ کو صرف قانون کے ماہرین کے طور پر نہیں، بلکہ امید کی کرن کے طور پر دیکھتا ہے۔‘‘