نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کے ملزم اور سابق مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیوالی منانے کے لیے آبائی شہر جانے کی اجازت دے دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کی سماعت مقررہ وقت میں مکمل ہونی چاہیے۔ بنچ نے کہا، ’’بہت زیادہ جلد بازی نہیں ہونی چاہیے، لیکن غیر ضروری تاخیر بھی نہیں ہونی چاہیے۔ استغاثہ کو اس معاملے میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
‘‘ یہ معاملہ 3 اکتوبر 2021 کا ہے، جب اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری کے ٹکونیا علاقے میں اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے دورے کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے دوران 4 کسانوں سمیت 8 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ ایک ایس یو وی نے 4 کسانوں کو کچل دیا تھا۔ اس کے بعد مشتعل کسانوں نے مبینہ طور پر ایس یو وی کے ڈرائیور اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 2 کارکنوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا۔ اس تشدد میں ایک صحافی کی بھی موت ہوگئی تھی۔ آشیش مشرا ضمانت پر جیل سے باہر ہیں، لیکن انہیں اپنے آبائی شہر لکھیم پور کھیری میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔
پیر کو عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’درخواست گزار کو اپنے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ دیوالی کا تہوار منانے کے لیے لکھیم پور کھیری میں واقع اپنے آبائی شہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے، تاہم اسے پہلے سے عائد شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ انہیں 16 نومبر کو واپس لوٹنا ہوگا۔‘‘
عدالت نے یہ حکم آشیش مشرا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سدھارتھ دوے کی درخواست پر دیا، جنہوں نے انہیں اپنے آبائی شہر جانے کی اجازت دینے کی اپیل کی تھی۔ اتر پردیش حکومت کے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ اس معاملے کی سماعت کرنے والے ماتحت عدالت کے جج کا الہ آباد ہائی کورٹ نے تبادلہ کردیا ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مقدمے کی پیروی کے لیے ایک نئے سرکاری وکیل کا تقرر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، بنچ کو آگاہ کیا گیا کہ مقدمے کے 131 گواہوں میں سے 90 کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ متاثرین کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ وہ مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے مطمئن ہیں۔ عدالتی افسر لوکیش رائے نے 14 اکتوبر کو لکھیم پور کھیری کے ضلع و سیشن جج کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے شیو کمار سنگھ کی جگہ لی ہے، جو اس معاملے کی سماعت کررہے تھے۔