فرضی ڈی ایس اے بن کر 15 لاکھ کی لون دھوکہ دہی، دو گرفتار

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
فرضی ڈی ایس اے بن کر 15 لاکھ کی لون دھوکہ دہی، دو گرفتار
فرضی ڈی ایس اے بن کر 15 لاکھ کی لون دھوکہ دہی، دو گرفتار

 



نئی دہلی: شاہدرہ سائبر پولیس اسٹیشن نے پرائیویٹ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ڈائریکٹ سیلنگ ایجنٹ (ڈی ایس اے) بن کر لوگوں سے دھوکہ دہی کرنے والے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے 15 لاکھ روپے کے لون اور اوور ڈرافٹ فراڈ کے معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ ان کے قبضے سے 6.95 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے ہیں۔ گرفتار ملزمین کی شناخت 36 سالہ ادیب خان، جسے پولیس نے گروہ کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بتایا ہے، اور انیس علی کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق انیس علی نے مبینہ طور پر ’میول‘ بینک اکاؤنٹ فراہم کیا اور رقم نکالنے میں مدد کی۔ گروہ کا ایک اور ساتھی راجندر ابھی فرار ہے۔

پولیس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اوور ڈرافٹ یا لون کی سہولت حاصل کرنے کے خواہش مند اکشے ورما کی ملاقات ادیب خان سے ہوئی۔ خان نے مبینہ طور پر خود کو بجاج فنسرو اور دیگر پرائیویٹ بینکوں کا ڈی ایس اے بتاتے ہوئے کم شرح سود پر لون دلانے کی پیشکش کی۔ پولیس نے بتایا کہ شکایت کنندہ کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد خان نے اسے ڈلیوری سروس کے ذریعے کوشامبی کے کے ایم ٹریڈ ٹاورز میں واقع ایک پتے پر تین چیک بھیجنے کو کہا۔ ان میں 15 لاکھ روپے کا ایک خالی دستخط شدہ چیک بھی شامل تھا۔ شکایت کنندہ مبینہ طور پر کبھی بھی ملزم سے ذاتی طور پر نہیں ملا۔

پولیس کا الزام ہے کہ 15 لاکھ روپے کے چیک کا غلط استعمال کیا گیا اور اس کی رقم کینرا بینک کے ایک ’میول‘ اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی۔ بعد میں دو چیک کے ذریعے رقم نکال لی گئی اور اس طرح شکایت کنندہ کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔ شکایت ملنے کے بعد سائبر پولیس ٹیم نے میول اکاؤنٹ، موبائل نمبر، آئی ایم ای آئی اور آئی ایم ایس آئی تفصیلات، سی ڈی آر، آئی پی ڈی آر، واٹس ایپ چیٹس اور رقم کی منتقلی و نکاسی کے پورے راستے کا تکنیکی اور مالیاتی تجزیہ کیا۔ پولیس کے مطابق، تفتیش کے دوران ملزمین کی شناخت اور ان کی لوکیشن کا پتہ چلا، جس کے بعد 25 ستمبر کو ادیب خان اور انیس علی کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزمین کے قبضے سے مجموعی طور پر 6.95 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے، جن میں 500 روپے کے 1,390 نوٹ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی 15 لاکھ روپے کی رقم ملزمین کے درمیان تقسیم کی گئی تھی۔ مبینہ طور پر ادیب خان کو 9 لاکھ روپے، انیس علی کو 3 لاکھ روپے اور فرار ملزم راجندر کو 3 لاکھ روپے ملے تھے۔ تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ خان پہلے کئی پرائیویٹ بینکوں کے لیے ڈی ایس اے کے طور پر کام کر چکا تھا اور بجاج فنسرو کے ساتھ کمیشن پر تھرڈ پارٹی ڈی ایس اے کے طور پر بھی کام کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق اس نے اپنے تجربے اور پیشہ ورانہ رابطوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لون یا اوور ڈرافٹ کی سہولت چاہنے والے لوگوں کی شناخت کی اور واٹس ایپ کے ذریعے ان سے رابطہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خان خود کو حقیقی ڈی ایس اے ظاہر کرکے لوگوں کو پرکشش شرح سود پر مالی سہولت فراہم کرنے کا یقین دلاتا تھا۔

متاثرین کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد وہ لون یا اوور ڈرافٹ کی کارروائی مکمل کرنے کے بہانے ان سے چیک اور ضروری دستاویزات حاصل کرتا اور بعد میں ان کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ فرار ملزم راجندر کو گرفتار کرنے، باقی رقم برآمد کرنے، رقم کے پورے لین دین کا سراغ لگانے، دیگر ’میول‘ اکاؤنٹس اور ساتھیوں کی شناخت کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس یہ بھی معلوم کر رہی ہے کہ آیا اسی طریقے سے اس گروہ نے دیگر لوگوں کے ساتھ بھی دھوکہ دہی کی ہے۔