ترواننت پورم، یکم اکتوبر (بھاشا): کیرالہ کے وزیراعلیٰ وی۔ ڈی۔ ستیشن نے ’عالمی یومِ بزرگ شہری‘ کے موقع پر جمعرات کو کہا کہ ریاستی حکومت بزرگ شہریوں کو ’قانونی ضمانت‘ یا تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک قانون بنائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا قانون ہوگا۔ اس موقع پر منعقدہ ایک پروگرام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ کیرالہ بزرگ شہریوں کے لیے محکمہ قائم کرنے والی ہندوستان کی پہلی ریاست ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اب مجھے دوسری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سکریٹریوں کے فون آ رہے ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ اس پہل کا ماڈل کیا ہے اور اس کے پیچھے مقصد کیا ہے۔ کئی لوگوں کو لگا کہ بزرگ شہریوں کے لیے بہت سی سماجی بہبود کی اسکیمیں شروع کی جائیں گی۔ وہ تو ہوں گی ہی۔‘‘ ستی شن نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بزرگ شہری ’سلور اکانومی‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہیں فعال بنانے اور مختلف سرگرمیوں میں ان کی شرکت یقینی بنانے کی یہ ایک بڑی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور دنیا میں ایک اور نئی پہل کے طور پر بزرگ شہریوں کو ’قانونی ضمانت‘ دینے کے لیے قانون بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا، ’’بزرگ شہریوں کا محکمہ اس مقصد کے لیے ایک جامع قانون تیار کر رہا ہے۔ اسے فوری طور پر ریاستی اسمبلی میں منظور کرایا جائے گا۔ اب تک کی ہماری تحقیق کے مطابق دنیا میں کہیں بھی ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ یہ حکومت کی طرف سے کوئی عطیہ نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کا حق ہے۔‘
‘ اس سے پہلے ستی شن نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یو ڈی ایف نے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران جو وعدہ کیا تھا، اس کے تحت قائم کیا گیا محکمہ اب کام کرنے لگا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اچھی حکمرانی اور دیکھ بھال صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے نظر آتی ہے۔‘‘ ستی شن نے کہا کہ اوسط عمر بڑھنے کے باعث بزرگ شہریوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق اندازہ ہے کہ 2036 تک کیرالہ میں بزرگ شہری ریاست کی کل آبادی کا تقریباً 38 فیصد ہوں گے، جبکہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں یہ تعداد 20 فیصد بھی نہیں ہوگی۔ اس وقت قومی اوسط تقریباً 19 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد بزرگ شہریوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مزید فعال اور تخلیقی بنانا ہے۔