کشمیر : گل مرگ میں پہلی برف باری ۔ جنت نظیر کی خوبصورتی سے سیاح مسحور

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 17-10-2026
کشمیر : گل مرگ میں پہلی برف باری ۔  جنت نظیر کی  خوبصورتی سے سیاح مسحور
کشمیر : گل مرگ میں پہلی برف باری ۔ جنت نظیر کی خوبصورتی سے سیاح مسحور

 



باسط زرگر۔ سری نگر 

’’فردوس بر روئے زمین است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است‘‘

یعنی اگر روئے زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہی ہے۔ یہ مشہور فارسی شعر کشمیر کی بے مثال خوبصورتی کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جسے دیکھ کر انسان بے اختیار اس کی دل کشی کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔ برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیاں، بادلوں اور دھند میں لپٹی وادیاں اور سفید چادر اوڑھے پہاڑ کشمیر کے حسن کو ایک نئی دل آویزی عطا کرتے ہیں۔ شمالی کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام گل مرگ میں تازہ برف باری نے افاروت کی بلند چوٹیوں کو ایک دل فریب سرمائی منظر میں بدل دیا ہے۔ برف باری کے اس حسین نظارے نے سیاحوں کے چہروں پر خوشی بکھیر دی ہے اور وہ اس قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔

گل مرگ کے برف پوش پہاڑوں اور دھند میں چھپتی ابھرتی چوٹیوں نے ایسا منظر پیش کیا کہ سیاح خود کو ان نظاروں کی تصویریں بنانے اور ان یادگار لمحوں کو کیمروں میں محفوظ کرنے سے نہ روک سکے۔ سفید برف سے ڈھکی ڈھلوانوں کے درمیان سیاحوں نے چہل قدمی کی، برف باری کا لطف اٹھایا اور پہاڑوں کے دل کش پس منظر میں تصاویر بنوائیں۔

کشمیر کی خوبصورتی کو الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں۔ اسی لیے شاعر نے کہا ہے:

اگر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

یہ شعر کشمیر کی فطری دل کشی کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہاں کی برف پوش چوٹیاں، سرسبز وادیاں، جھیلیں اور پہاڑ قدرت کے ایسے شاہکار ہیں جو ہر موسم میں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ سردیوں میں جب پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں تو ان کی خوبصورتی مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع گل مرگ ہندوستان کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام اپنے دل کش پہاڑی مناظر، برف پوش چوٹیوں اور مشہور گل مرگ گونڈولا کیبل کار کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ گونڈولا سیاحوں کو پیر پنجال کے بلند پہاڑی سلسلے کی جانب لے جاتی ہے جہاں سے دور تک پھیلے پہاڑوں اور برف پوش ڈھلوانوں کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔افاروت کی چوٹیوں پر تازہ برف باری کے بعد پہاڑوں کی ڈھلوانیں سفید چادر میں ڈھک گئیں۔ سیاح سرد موسم کے باوجود برف میں کھیلتے، ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیاں کرتے اور یادگار تصاویر بناتے نظر آئے۔ بہت سے سیاحوں کے لیے پہاڑوں پر برف باری کا براہ راست مشاہدہ ان کے کشمیر کے سفر کا سب سے یادگار تجربہ بن گیا۔برف پوش پہاڑوں کی یہ دل کشی اردو شاعری میں بھی بارہا جلوہ گر ہوئی ہے۔ کشمیر کی وادیوں اور قدرتی مناظر کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ایک معروف شعر یاد آتا ہے:

یہ وادیاں، یہ پہاڑ، یہ برف کی چادر ہر سمت حسن بکھرا ہے قدرت کے رنگوں کا

گل مرگ کی سیر کے لیے آنے والے سیاحوں میں روشن شرما بھی شامل تھے۔ انہوں نے برف باری اور پہاڑی مناظر کو دیکھ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ایک اور سیاح پریتی کمار نے بھی افاروت کے برف پوش ماحول سے لطف اٹھایا اور اسے اپنے سفر کا یادگار حصہ قرار دیا۔تازہ برف باری نے گل مرگ کی سیاحتی کشش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہاں آنے والے سیاح نہ صرف برف باری دیکھنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں بلکہ گونڈولا کی سواری، برف پوش ڈھلوانوں کی سیر اور ہمالیہ کے وسیع و عریض مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی اس مقام کا رخ کرتے ہیں۔تاہم بلند پہاڑی علاقوں میں موسم تیزی سے بدل سکتا ہے۔ بادلوں کی آمد سے حدِ نگاہ متاثر ہو سکتی ہے جبکہ درجہ حرارت میں اچانک کمی اور برف سے ڈھکی پھسلن بھری ڈھلوانیں سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لیے افاروت جانے والے سیاحوں کو مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے، موسم کی تازہ صورت حال معلوم کرنے اور گونڈولا کیبل کار کے اوقات اور آپریشن سے متعلق اطلاعات کی تصدیق کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

کشمیر کی خوبصورتی پر ایک اور شعر بھی اس موقع پر یاد آتا ہے:

نگاہوں میں بس جائے تو منظر نہیں بھولتا کشمیر کا حسن دل سے کبھی دور نہیں ہوتا

گل مرگ کی برف پوش چوٹیاں اور افاروت کے حسین پہاڑی مناظر ایک بار پھر یہ احساس دلا رہے ہیں کہ قدرت نے کشمیر کو غیر معمولی حسن سے نوازا ہے۔ تازہ برف باری نے یہاں کی وادیوں کو سفید رنگ میں رنگ دیا ہے اور سیاح مسکراہٹوں، خوشی اور کیمروں کے ساتھ ان دل فریب نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔