جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے مطالعہ سماجی شمولیت کا نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا تعلیمی دورہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے مطالعہ سماجی شمولیت کا نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا تعلیمی دورہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے مطالعہ سماجی شمولیت کا نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا تعلیمی دورہ

 



نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے مطالعہ سماجی شمولیت نے 18 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں واقع نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا تعلیمی دورہ کیا۔ یہ دورہ ’’ہندوستانی آئین۔ سماجی انصاف اور جامع پالیسی‘‘ اور ’’شہریت کے تصورات۔ مباحث اور اختلافات‘‘ جیسے تعلیمی نصاب کا حصہ تھا۔ اس کا مقصد طلبہ کو ہندوستان کے پارلیمانی اداروں اور جمہوری عمل سے براہ راست واقف کرانا تھا۔اس دورے میں مرکز کے طلبہ۔ اساتذہ اور غیر تدریسی عملے سمیت مجموعی طور پر 31 افراد نے شرکت کی۔ وفد نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے احاطوں کے علاوہ سینٹرل ہال اور پارلیمنٹ کی آرٹ گیلری کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر شرکا کو ہندوستانی پارلیمانی جمہوریت کے تعمیراتی۔ تاریخی اور ادارہ جاتی پہلوؤں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔

دورے کے دوران طلبہ اور دیگر شرکا کی پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کے اسسٹنٹ سیکیورٹی افسر کشیتریوم موہن داس سے ملاقات بھی ہوئی۔ انہوں نے پارلیمانی اجلاسوں اور کارروائیوں سے متعلق طریقہ کار اور ضوابط کے بارے میں شرکا کو معلومات فراہم کیں۔ اس گفتگو سے طلبہ کو پارلیمنٹ کے کام کرنے کے طریقہ کار اور پارلیمانی اجلاسوں کے انعقاد میں شامل ادارہ جاتی مراحل کو عملی طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔

اس تعلیمی دورے کے ذریعے طلبہ کو کلاس روم میں حاصل ہونے والی تعلیم کو پارلیمانی اداروں کے عملی کام سے جوڑنے کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے نمائندگی۔ غور و فکر۔ قانون سازی اور جمہوری جواب دہی کے حوالے سے جمہوری اداروں کو کلاس روم سے باہر سمجھنے کی کوشش کی۔اس دورے کی نگرانی یوسف علی نے کی۔ ڈاکٹر شیخ محمد فرحان اور ڈاکٹر صبیہ حمید بھٹ نے ان کا تعاون کیا۔ جبکہ کیرالہ کے ملاپورم سے رکن پارلیمنٹ ای ٹی محمد بشیر نے دورے کو سہولت فراہم کی۔

یہ تعلیمی دورہ مرکز برائے مطالعہ سماجی شمولیت کی جانب سے تجرباتی تعلیم اور آئینی و جمہوری اداروں سے براہ راست رابطے کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ تھا۔مرکز کی اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر تنوجا نے کہا کہ ایسے دوروں سے طلبہ کو کلاس روم میں حاصل ہونے والی تعلیم کو جمہوری اداروں کے عملی کام سے جوڑنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے ہندوستان کے آئینی اور پارلیمانی نظام کو گہرائی سے سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ڈاکٹر اروند کمار نے پارلیمانی اداروں کی اہمیت اور جمہوری عمل کو سمجھنے اور اس میں شرکت کرنے میں شہریوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔پروگرام کوآرڈینیٹر یوسف علی نے اختتامی کلمات میں تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی تاریخی اور آئینی اہمیت کے ساتھ ساتھ ان کے بدلتے ہوئے ادارہ جاتی ورثے کا بھی مزید مطالعہ کریں۔مرکز برائے مطالعہ سماجی شمولیت کے بارے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مرکز برائے مطالعہ سماجی شمولیت سماجی شمولیت۔ سماجی اخراج۔ شہریت۔ مساوات۔ سماجی انصاف اور عوامی پالیسی سے متعلق موضوعات پر تدریس اور تحقیق میں مصروف ہے۔ مرکز عصر حاضر کے سماجی اور سیاسی مسائل پر بین الشعبہ جاتی علمی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے۔

اس سے قبل  جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سید عابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول نے لوک سبھا سیکریٹریٹ کے PRIDE کے تعاون سے 21 ستمبر 2026 کو پارلیمنٹ آف انڈیا کا تعلیمی دورہ کیا۔ یہ دورہ اسکول کی پرنسپل شگفتہ شاندار خان کی قیادت اور رہنمائی میں منعقد کیا گیا۔

اس تعلیمی دورے میں اساتذہ کے ہمراہ مجموعی طور پر 49 طلبہ نے شرکت کی۔ دورے کا مقصد طلبہ کو پارلیمنٹ کے کام کرنے کے طریقہ کار سے براہ راست واقف کرانا اور ہندوستانی پارلیمانی نظام اور جمہوری اداروں کے بارے میں ان کی سمجھ کو مزید بہتر بنانا تھا۔ورے کے دوران طلبہ کو پارلیمانی نظام کے مختلف پہلوؤں اور پارلیمنٹ کے کام کرنے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر انہیں ہندوستانی جمہوریت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو قریب سے سمجھنے اور عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ طلبہ نے پورے دورے کے دوران بھرپور جوش و خروش اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔