جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے مطالبات پر غور کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-10-2026
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے مطالبات پر غور کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے مطالبات پر غور کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل

 



نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھوک ہڑتال اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات پر غور کرنے اور کیمپس میں معمولات بحال کرنے کے لیے 7 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

یونیورسٹی کی جانب سے 18 اکتوبر 2026 کو جاری پریس ریلیز کے مطابق اس سلسلے میں آج وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی صدارت میں سینئر عہدیداروں کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میں رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی۔ مختلف فیکلٹیوں کے ڈین۔ ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر۔ چیف پراکٹر۔ ہاسٹلوں کے پرووسٹ اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔میٹنگ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے اور احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے 7 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ ان کے مطالبات کا جائزہ لے گی اور کیمپس میں امن و امان برقرار رکھنے اور معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔

یہ فیصلہ 18 اکتوبر کو وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی صدارت میں منعقدہ سینئر عہدیداروں کی میٹنگ میں کیا گیا۔ میٹنگ میں رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی۔ کنٹرولر امتحانات پروفیسر احتشام الحق۔ مختلف فیکلٹیوں کے ڈین۔ ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر۔ ڈین آف اکیڈمک افیئرز۔ چیف پراکٹر اور ہاسٹلوں کے پرووسٹ سمیت دیگر عہدیدار شریک ہوئے۔

رجسٹرار کے دفتر سے جاری حکم نامے کے مطابق کمیٹی میں پروفیسر اقتدار محمد خان ڈین فیکلٹی آف ہیومینیٹیز اینڈ لینگویجز۔ پروفیسر لقمان احمد خان ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز۔ پروفیسر زبیر میناعی ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز۔ پروفیسر نیلوفر افضل ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر۔ پروفیسر تنوجا ڈین آف اکیڈمک افیئرز۔ شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کی پروفیسر منی ایس تھامس اور شعبہ انگریزی کی پروفیسر سمی ملہوترا شامل ہیں۔حکم نامے کے مطابق ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کی ذمہ داری سنبھالیں گی اور جلد از جلد اپنی رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کریں گی۔یونیورسٹی نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ انتظامیہ باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر تعمیری بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے طلبہ اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بھی اسی جذبے کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

طلبہ یونین انتخابات کے معاملے پر بھی بات چیت

یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ یونین انتخابات کے دیرینہ مسئلے کا خوشگوار حل تلاش کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ جامعہ کے مطابق طلبہ یونین انتخابات 2006 میں بار بار ہونے والے پرتشدد تصادم۔ اساتذہ پر حملوں اور کلاسوں میں خلل کے واقعات کے بعد بند کر دیے گئے تھے۔انتظامیہ نے 2022 میں دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والی کارروائی کا بھی حوالہ دیا جس میں اس معاملے کو نمٹا دیا گیا تھا اور یونیورسٹی کو طلبہ یونین انتخابات کرانے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مطابق اس کے مختلف شعبوں اور مراکز میں سبجیکٹ ایسوسی ایشن کے انتخابات کا نظام موجود ہے۔ ان انتخابات میں طلبہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے نائب صدر۔ جنرل سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری سمیت 3 عہدیداروں کا انتخاب کرتے ہیں۔

انتظامیہ نے طلبہ اور دیگر متعلقہ فریقوں سے کیمپس میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ اس نے کہا کہ تعلیمی ماحول کو طلبہ۔ اساتذہ اور ملازمین کے لیے سازگار بنائے رکھنے کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے۔ انتظامیہ نے تمام متعلقہ فریقوں سے 106 سالہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ساکھ اور قومی و بین الاقوامی درجہ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یونیورسٹی انتظامیہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات پر غور اور کیمپس میں معمولات کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔