جنتر منتر تشدد: سپریم کورٹ کی کمیٹی پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق شواہد کا جائزہ لے گی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 24-10-2026
جنتر منتر تشدد: سپریم کورٹ کی کمیٹی پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق شواہد کا جائزہ لے گی
جنتر منتر تشدد: سپریم کورٹ کی کمیٹی پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق شواہد کا جائزہ لے گی

 



نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں جولائی کے مہینے میں جنتر منتر پر احتجاج کے دوران مبینہ تشدد کی جانچ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی 29 اور 30 اکتوبر کو یہاں دو روزہ اجلاس منعقد کرے گی۔ حکام نے ہفتے کو بتایا کہ اس دوران متاثرہ افراد کی بات سنی جائے گی اور پیلٹ گن کے مبینہ استعمال اور خواتین مظاہرین کو ہراساں کیے جانے سے متعلق شواہد درج کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق، کمیٹی کی کارروائی صبح 11 بجے سے شکشا سدن، 17 راؤز ایونیو انسٹی ٹیوشنل ایریا میں واقع اس کے دفتر میں شروع ہوگی۔ تشدد سے متاثرہ افراد اور عام شہری 29 اور 30 اکتوبر کو صبح 11:30 بجے سے سہ پہر 3 بجے کے درمیان وہاں پہنچ کر اپنی شکایات یا درخواستیں پیش کرسکتے ہیں اور شواہد بھی جمع کراسکتے ہیں۔ اس کے لیے ان کے پاس شناخت کا کوئی معتبر دستاویز ہونا ضروری ہے۔

حکام نے بتایا کہ کمیٹی خاص طور پر پیلٹ گن کے مبینہ استعمال، مخصوص افراد کو نشانہ بناکر تشدد کیے جانے اور خواتین مظاہرین کو ہراساں کرنے کے الزامات کی جانچ کرے گی۔ اس کے علاوہ دونوں فریقوں کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ سپریم کورٹ نے متعدد عرضیوں پر سماعت کے دوران اپنے سابق جج جسٹس آر سُبھاش ریڈی کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

ان عرضیوں میں کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) کی قیادت میں چلائی گئی تحریک کے دوران طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کی زیادتی کے الزامات لگائے گئے تھے۔ دوسری جانب پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی تشدد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ کمیٹی میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکر جھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج شالندر کور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایل آر بشنوئی بھی شامل ہیں۔