پوکرن، راجستھان، 15 اکتوبر 2026۔ جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی اور علاقائی یونٹوں کے صدور اور نظمائے اعلیٰ کا نواں مرکزی ششماہی مشورہ دارالعلوم اسلامیہ پوکرن، جیسلمیر، راجستھان میں منعقد ہوا۔ سہ روزہ اجتماع میں ملک بھر سے تنظیمی ذمہ داران نے شرکت کی اور گزشتہ 6 ماہ کی تنظیمی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ آئندہ 6 ماہ کے اہداف بھی طے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے ملت کی خدمت کو اولین ترجیح دینے اور نوجوان نسل کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملی اور تنظیمی کاموں کو اخلاص، عزم اور جذبۂ ایثار کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع اور ذمہ داریاں سونپ کر مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کی۔ پروگرام کے میزبان اور جمعیۃ کے نائب صدر مولانا قاری محمد امین کی جانب سے دارالعلوم اسلامیہ پوکرن کے استاذ مفتی فضل الدین قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔
6 ماہ کی کارکردگی اور آئندہ کے اہداف
اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹوں کے مطابق اپریل سے اکتوبر 2026 کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے مختلف شعبوں نے متعدد سرگرمیاں انجام دیں۔ دینی تعلیم کے فروغ سے لے کر سماجی اصلاح اور نوجوانوں کی تنظیمی تربیت تک مختلف میدانوں میں پیش رفت ہوئی۔
دینی مکاتب: گزشتہ 6 ماہ میں 5352 نئے دینی مکاتب قائم کیے گئے۔ آئندہ 6 ماہ میں مزید 5332 مکاتب قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں پہلے سے 63000 سے زائد مکاتب چل رہے ہیں۔
درسِ قرآن و حدیث: گزشتہ 6 ماہ کے دوران 5860 نئے مقامات پر درسِ قرآن اور 8848 مقامات پر درسِ حدیث کا آغاز کیا گیا۔ اس سے قبل بالترتیب 4556 اور 6678 مقامات پر یہ سلسلہ جاری تھا۔
اصلاحِ معاشرہ: اخلاقی تربیت، معاشرتی اصلاح اور فضول خرچی کی روک تھام کے لیے 7351 اصلاحی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ آئندہ مرحلے میں 8383 اجتماعات منعقد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
شعبۂ رفیق: نوجوانوں کو تنظیمی سرگرمیوں اور خدمتِ خلق سے جوڑنے کے لیے 9400 نوجوانوں کو شعبۂ رفیق سے وابستہ کیا گیا۔ اگلے 6 ماہ میں مزید پیش رفت کے لیے 9753 نوجوانوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مثالی مساجد: مساجد کو دینی رہنمائی اور سماجی اصلاح کے فعال مراکز بنانے کے مقصد سے 1806 مثالی مساجد قائم کی گئیں۔ آئندہ 6 ماہ میں مزید 2556 مساجد کو اس منصوبے کے تحت لانے کا ہدف ہے۔
سدبھاونا منچ: قومی یکجہتی، باہمی ہمدردی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 356 پروگرام منعقد کیے گئے۔ اگلے مرحلے میں 1091 پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
جن وکاس سیوا: سماجی اور تعلیمی ترقی کے لیے 484 دیہات منتخب کیے گئے۔ آئندہ مرحلے میں مزید 748 دیہات کو اس منصوبے میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
تنظیمی تربیت: کارکنان کی صلاحیتوں میں اضافے اور تنظیمی استحکام کے لیے 115 ورکشاپیں منعقد کی گئیں۔ آئندہ 6 ماہ میں 386 ورکشاپوں کے انعقاد کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ 5000 سے زائد تنظیمی میٹنگیں بھی منعقد کی گئیں۔
ملت کی خدمت ہی اصل ترجیح ہے: مولانا محمود مدنی
اپنے کلیدی خطاب میں مولانا محمود اسعد مدنی نے ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں پیش رفت کے باوجود ملت کی ضروریات اور موجودہ حالات کے تقاضوں کے پیش نظر ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مزید محنت، اخلاص اور پختہ عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند کے نزدیک ملت کی خدمت ہی اصل ترجیح ہے۔ کارکنان کے اندر ملت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے۔ جب یہ احساس مضبوط ہوگا تو ذاتی حیثیت، انفرادی شہرت اور منصب کی اہمیت خود بخود کم ہوجائے گی۔اکابرین اور اسلاف کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود غیر معمولی عزم و استقامت کے ساتھ کام کیا اور مشکلات کے سامنے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے اخلاص، ایثار اور خدمت کے جذبے کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں اور اسی احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ملی اور تنظیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں۔
نوجوانوں کو ذمہ داریاں سونپنے پر زور
نئی نسل کی تربیت اور مستقبل کی قیادت تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ نوجوانوں کو کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ انہیں اس انداز سے تیار کیا جائے کہ وہ مستقبل میں موجودہ ذمہ داران کا مؤثر متبادل بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کے ذریعے جمعیۃ علماء ہند کا پیغام اور اس کی تعمیری سرگرمیاں ملک کے کونے کونے، ہر گاؤں اور ہر بستی تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہم خیال افراد کو بھی ملت کے مشترکہ کاموں میں شریک کرنے کی ضرورت ہے۔جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب انسان اپنے کام کو ذاتی شہرت، نام و نمود اور اپنی ذات کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیتا ہے تو کام چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی قدر و قیمت برقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس محض عہدے، منصب اور ظاہری شہرت مستقل نہیں ہوتے۔
دینی تعلیم کے فروغ اور مکاتب کے قیام پر تبادلۂ خیال
اجلاس کی ایک اہم نشست میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صدر مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے دینی تعلیمی بورڈ اور مکاتب کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے بنیادی دینی تعلیم کے فروغ، نئے مکاتب کے قیام، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر صوبائی یونٹوں کی ذمہ داریوں اور آئندہ کے عملی اہداف پر بھی غور کیا گیا۔
مشورے کی مختلف نشستوں کی صدارت جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری، نائب صدر مولانا قاری محمد امین، مجلسِ قائمہ کے صدر مفتی رحمت اللہ میر کشمیری، جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مفتی افتخار احمد قاسمی اور جمعیۃ علماء آسام کے نائب صدر مولانا عبدالقادر نے کی۔ ان بزرگوں نے اپنے خطابات میں تنظیمی اور ملی ذمہ داریوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔مختلف شعبوں کی رپورٹیں اور پریزنٹیشن اویس سلطان خاں نے شعبۂ جیم کے حوالے سے، مفتی مہدی حسن عینی نے سدبھاونا منچ کے سلسلے میں، ڈاکٹر شبیر مشتاق میر نے خیر ایپ اور تربیتی رپورٹ کے بارے میں، مولانا محمد اخلاق نے شعبۂ رفیق اور مولانا محمد عمر قاسمی نے اصلاحِ معاشرہ، مثالی مساجد اور ایپ سے متعلق پیش کیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی نے پیرا لیگل ٹریننگ کے بارے میں تفصیلات پیش کیں۔
رپورٹوں اور آئندہ کے اہداف کی روشنی میں تنظیمی اور سماجی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں معیاری مساجد کے قیام، ہر یونٹ میں اصلاحی کمیٹی کی تشکیل اور مثالی اضلاع میں فیملی کونسلنگ سینٹر قائم کرنے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔
اجلاس کی نشستوں کا آغاز مفتی سید محمد عفان منصورپوری کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا جبکہ دارالعلوم اسلامیہ پوکرن کے طلبہ نے نعت شریف پیش کی۔تین روزہ مرکزی مشورے میں ملک بھر سے آئے ذمہ داران نے مختلف شعبوں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تفصیلی گفتگو کی۔ جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر کے متعدد ذمہ داران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔دارالعلوم اسلامیہ پوکرن نے اس مرکزی مشورے کی میزبانی کے انتظامات خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ ادارے کے اساتذہ، طلبہ اور منتظمین نے مہمانوں کی خدمت اور اجلاس کے انتظامات میں بھرپور تعاون کیا۔