جمعیت علماء ہند: جدید معاشی معاملات میں سودی سرگرمیوں کی بالواسطہ معاونت بھی فقہی اجتماع میں زیر بحث

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
جدید معاشی معاملات میں سودی سرگرمیوں کی بالواسطہ معاونت بھی فقہی اجتماع میں زیر بحث
جدید معاشی معاملات میں سودی سرگرمیوں کی بالواسطہ معاونت بھی فقہی اجتماع میں زیر بحث

 



 نئی دہلی : ایسی کمپنی کے لیے ملازمت کرنا جو جائز خدمات کے ساتھ سودی قرضوں انشورنس کریڈٹ کارڈ یا دیگر ناجائز معاملات سے بھی وابستہ ہو یا کسی آن لائن خرید و فروخت کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات کو بعد میں سودی معاملات میں استعمال کیا جاتا ہو تو اس میں تعاون کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

اسی طرح زومیٹو اور بلنک اٹ جیسے آن لائن پلیٹ فارموں کے ذریعے شراب غیر مذبوح گوشت اور دیگر ناجائز اشیا کی ترسیل اور خرید و فروخت میں کام کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

ان اہم اور عصر حاضر سے جڑے سوالات پر جمعیت علماء ہند کے ادارہ مباحث الفقہیہ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک روزہ فقہی اجتماع میں پیش کیے گئے مقالات میں تفصیلی بحث کی گئی۔

یہ بحث اجتماع کی تیسری نشست میں پیش کیے گئے جدید معاشی معاملات سے متعلق مقالات کا حصہ تھی۔ 24 ستمبر کو مرکزی دفتر جمعیت علماء ہند نئی دہلی کے مرکزی ہال میں منعقدہ اس نشست کی صدارت حضرت مفتی زین الاسلام قاسمی آبادی صدر مفتی دارالعلوم دیوبند نے کی۔ نشست میں جدید بینکاری انشورنس مالیاتی خدمات آن لائن تجارت اور روزگار کے بدلتے ہوئے طریقوں کے تناظر میں پیدا ہونے والے متعدد فقہی مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ مفتی محمد نصحب قاسمی اور مفتی اسد اللہ نائب مفتی دارالعلوم دیوبند نے ان مقالات کی تلخیص تیار کی جبکہ مفتی عبدالرزاق امرودی نے اسے شرکائے اجتماع کے سامنے پیش کیا۔

اجتماع میں اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ اگر کوئی ویب سائٹ یا تجارتی پلیٹ فارم بظاہر جائز اشیا اور خدمات کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتا ہو لیکن اس سے وابستہ کمپنی سودی معاملات میں بھی ملوث ہو تو اس کے ساتھ کام کرنے یا اسے خدمات فراہم کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی۔ اسی طرح کسی ایسی کمپنی میں ملازمت کرنے کے مسئلے پر بھی گفتگو ہوئی جہاں تیار کیے جانے والے اعداد و شمار یا خدمات کی رپورٹیں بعد میں سودی قرضوں انشورنس کریڈٹ کارڈ یا دیگر ناجائز معاملات میں استعمال ہوتی ہوں۔

بینک کے خدماتی مرکز کے ذریعے مختلف بینکاری خدمات انجام دینے کے شرعی حکم کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ اسی سلسلے میں زومیٹو اور بلنک اٹ جیسے آن لائن پلیٹ فارموں کے ذریعے شراب غیر مذبوح گوشت اور دیگر ناجائز اشیا کی خرید و فروخت اور ترسیل کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ تیز رفتار ترسیلی خدمات اور مختلف غیر مسلم مذہبی اشیا کی خرید و فروخت سے متعلق شرعی پہلوؤں پر بھی فقہی آرا پیش کی گئیں۔ اس موضوع پر 101 مقالات تحریر کیے گئے جن میں جدید معاشی نظام سے پیدا ہونے والے مختلف مسائل اور ان کے فقہی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔

اجتماع کی دوسری نشست میں جدید طبی مسائل سے متعلق بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ اس نشست کی صدارت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی۔ نشست میں حمل کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور ماں کی جان کو لاحق خطرات علاج کے مختلف طریقوں مریضوں کے علاج کے لیے اعضا کی منتقلی عطیہ کیے گئے اعضا کے استعمال الٹرا ساؤنڈ اور دیگر طبی معاملات کے علاوہ علاج کے اخراجات اور مریض کی جان بچانے سے متعلق متعدد مسائل پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر جمعیت علماء ہند کے صدر مجلس حضرت مولانا رحمت اللہ میر قاسمی اور دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم حضرت مفتی محمد راشد اعظمی نے خطاب کیا۔

طبی مسائل سے متعلق موضوع پر 163 مفتیان کرام نے مقالات تحریر کیے۔ حضرت مفتی عبداللہ معروفی استاد حدیث دارالعلوم دیوبند نے ان مقالات کی تلخیص پیش کی اور مختلف فقہی آرا اور ان کے دلائل کا خلاصہ بیان کیا۔ اس کے بعد شرکائے اجتماع کے درمیان ان مسائل پر علمی اور فقہی گفتگو ہوئی۔ مزید تحقیق و تخریج اور تمام متعلقہ فقہی پہلوؤں کے جائزے کے لیے مسودہ سازی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے کنوینر مفتی اسد اللہ نائب مفتی دارالعلوم دیوبند مقرر کیے گئے۔ کمیٹی میں مفتی محمد اشرف عباس قاسمی مفتی محمد عثمان بستوی مفتی احترم عادل مفتی رشید الدین معروفی مفتی نذر احمد کشمیری مفتی محمد خالد نیوی اور مفتی محمد حیدر اعظمی شامل ہیں۔

ایک روزہ فقہی اجتماع میں جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی ناظم عمومی حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی حضرت مفتی محمد ارشاد اعظمی حضرت مولانا رحمت اللہ قاسمی حضرت مفتی سید محمد سلمان منصوری پوری حضرت مولانا شعیب احمد قاسمی بستوی حضرت مفتی محمد زید مظاہری اور ملک کے مختلف اہم مدارس اور علمی مراکز سے تعلق رکھنے والے فقہ و فتاویٰ کے ماہر علما اور مفتیان کرام نے شرکت کی۔

دوسری نشست کا آغاز مفتی سید محمد عثمان منصوری پوری کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ قاری احمد عبداللہ قاسمی نے نعت پیش کی۔ نظامت کے فرائض مفتی عبدالرزاق قاسمی امرودی اور مفتی سید محمد عثمان منصوری پوری نے انجام دیے۔ادارہ مباحث الفقہیہ کے کنوینر مولانا عبد الملک رسول پوری کے مطابق اجتماع کے اختتام پر زیر بحث آنے والے مسائل پر غور و خوض کے بعد حتمی تجاویز منظور کی جائیں گی۔