جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیاسی مداخلت پر اساتذہ برہم، احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں پر تشویش

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-10-2026
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیاسی مداخلت پر اساتذہ برہم، احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں پر تشویش
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیاسی مداخلت پر اساتذہ برہم، احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں پر تشویش

 



 نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ نے یونیورسٹی کیمپس میں سیاسی مداخلت، تعلیمی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے اور طلبہ کے جاری احتجاج کو مزید شدت دے کر بڑے بحران میں تبدیل کرنے کی کوششوں پر سخت تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اساتذہ نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی عناصر یونیورسٹی کے داخلی معاملات کو سیاسی رنگ دینے اور کیمپس کے ماحول کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ تشویش گزشتہ روز منعقدہ ایک اہم اجلاس میں ظاہر کی گئی، جس میں فیکلٹی ڈینز، شعبہ جات کے سربراہان، مراکز کے ڈائریکٹرز، کنٹرولر امتحانات، چیف پراکٹر، باسطل پروفیسرز اور یونیورسٹی کے دیگر اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں کیمپس کی صورتِ حال کا جائزہ لینے، آن لائن کلاسز کے سلسلے میں آئندہ کے لائحۂ عمل پر غور کرنے اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے تبادلۂ خیال کیا گیا۔

جسٹس مارکنڈے کاٹجو کی پوسٹ پر اساتذہ کا ردعمل

اساتذہ نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو کی جانب سے فیس بک پر شائع کردہ ایک پوسٹ پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ اس پوسٹ میں جسٹس کاٹجو نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مجاز اتھارٹی کے 23 اکتوبر کو جاری کردہ حکم نامے پر تنقید کی تھی۔ اس حکم نامے میں بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کے مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔

ان مطالبات میں طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے بعد انتخابات کرانے، احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف جاری کردہ معطلی کے احکامات اور شوکاز نوٹس منسوخ کرنے اور احتجاج کے دوران سکیورٹی عملے کے رویے اور اقدامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اساتذہ نے طلبہ یونین کے قیام کے حق میں آئین کے آرٹیکل 19(1)(c) کا حوالہ دینے کے جسٹس کاٹجو کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے ان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ یونین کی بحالی کی مخالفت کر رہی ہے۔ اساتذہ کے مطابق یہ تاثر درست نہیں ہے اور اس سے انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی حقیقی صورتِ حال سامنے نہیں آتی۔

طلبہ یونین کی بحالی کے لیے انتظامیہ کے اقدامات

اساتذہ نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ طلبہ یونین کو 2006 میں اس وقت تحلیل کر دیا گیا تھا، جب کیمپس میں پرتشدد جھڑپوں اور اساتذہ پر حملوں کے واقعات پیش آئے تھے۔

ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں یہ پہلی انتظامیہ ہے جس نے طویل عرصے سے زیرِ التوا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ اساتذہ نے کہا کہ طلبہ یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے اکتوبر میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کو متعلقہ عدالتی احکامات، لنگڈو کمیٹی کی سفارشات اور یونیورسٹی کے نافذالعمل آرڈیننس و ضوابط کا جائزہ لینے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔

اساتذہ کا موقف تھا کہ طلبہ یونین کی بحالی ایک اہم معاملہ ہے، جسے متعلقہ قانونی اور انتظامی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

سیاسی رہنماؤں کی کیمپس آمد پر اعتراض

اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ سیاسی جماعتوں کے بعض رہنما جامعہ کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور احتجاج کے دوران انتظامیہ پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اساتذہ نے کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی اور عمران مسعود کی کیمپس آمد کا حوالہ دیتے ہوئے اسے غیر مجاز داخلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق عمران پرتاپ گڑھی اکتوبر کے دوران کیمپس پہنچے، جب کہ عمران مسعود کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ 23 اکتوبر کو سیڑھی کی مدد سے احاطے کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ اساتذہ نے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محبوب اللہ ندوی کی کیمپس آمد کا بھی ذکر کیا۔

اساتذہ نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دیے بغیر بیرونی سیاسی شخصیات کی آمد سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور اس سے کیمپس کے تعلیمی ماحول پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

عمارتوں پر قبضے اور آن لائن کلاسز کا معاملہ

اساتذہ نے جاری احتجاج کے دوران یونیورسٹی سے باہر کے بعض افراد کی موجودگی اور کیمپس کی عمارتوں کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق 23 اکتوبر سے شعبۂ سیاسیات اور شعبۂ شہریت و معاشیات کی عمارتوں پر بیرونی افراد نے قبضہ کر رکھا ہے، جب کہ شہریت و معاشیات کی عمارت کو مقفل کر دیا گیا ہے۔

اساتذہ نے کہا کہ اس صورتِ حال کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ کو 23 اکتوبر سے دیوالی کی تعطیلات تک تدریسی سرگرمیاں آن لائن منتقل کرنا پڑیں۔ ان کے مطابق آن لائن کلاسز کے سلسلے میں صورتِ حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

اساتذہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر احتجاج کے باعث تعلیمی سرگرمیاں اسی طرح متاثر ہوتی رہیں تو طلبہ کی تعلیم اور یونیورسٹی کے معمولات پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

مشترکہ پریس کانفرنس کے وقت اور مقاصد پر سوالات

اجلاس میں یونیورسٹی کے ڈینز، شعبہ جات کے سربراہان، ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ عہدیداران نے سابق طلبہ، جامعہ کے بانی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد، فن کاروں، صحافیوں، وکلا اور دیگر شہریوں کے ایک گروپ کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کیے جانے کے وقت اور مقاصد پر بھی سوال اٹھائے۔

یہ پریس کانفرنس احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں بلائی گئی تھی۔ اساتذہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے اقدامات یونیورسٹی کے داخلی مسئلے کو وسیع تر سیاسی کشمکش میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ انتظامیہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ بات چیت کرتی رہی ہے اور ان کے مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں۔ اساتذہ کے مطابق انتظامیہ کی یہ کوششیں محض رسمی نہیں تھیں، بلکہ ان کا مقصد تنازعے کا قابلِ عمل حل تلاش کرنا تھا۔

بیرونی عناصر سے مداخلت سے گریز کی اپیل

اساتذہ نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی کے طلبہ اور ملازمین اس کے بنیادی اور جائز متعلقین ہیں اور جامعہ کے داخلی معاملات کو حل کرنے میں انہی کے کردار کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

انہوں نے بیرونی افراد اور سیاسی عناصر سے اپیل کی کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے کیمپس کا ماحول خراب ہو، تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوں یا یونیورسٹی میں مزید کشیدگی پیدا ہو۔

اساتذہ کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری صورتِ حال کا حل بات چیت، باہمی اعتماد اور متعلقہ ضوابط کے مطابق کارروائی کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی مداخلت اور کشیدگی میں اضافے کے ذریعے۔