جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے مسئلے کے حل پر اساتذہ اور ملازمین کا اظہارِ تشکر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 31-10-2026
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے مسئلے کے حل پر اساتذہ اور ملازمین کا اظہارِ تشکر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے مسئلے کے حل پر اساتذہ اور ملازمین کا اظہارِ تشکر

 



 جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات سے متعلق طویل عرصے سے جاری تعطل کے خوش اسلوبی سے خاتمے پر یونیورسٹی کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے انتظامیہ کے تئیں اظہارِ تشکر کیا۔ اس سلسلے میں آج سہ پہر ساڑھے تین بجے انصاری آڈیٹوریم کے احاطے میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں جامعہ کے دو ہزار سے زائد تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین نے شرکت کی۔

تقریب میں شرکا نے طلبہ یونین انتخابات کے معاملے کو بات چیت اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے طلبہ کے مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ تدریسی سرگرمیوں اور امتحانات کے نظام کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے غیر معمولی ذمہ داری، سنجیدگی اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اساتذہ اور ملازمین نے 29 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والے انتظامی حکم نامے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انتظامیہ کے صبر، بصیرت اور دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق جامعہ کے 106ویں یومِ تاسیس کے موقع پر یہ قدم ادارے کے وقار اور جمہوری روایات کو مستحکم کرنے کی ایک قابلِ ستائش مثال ہے۔

اس موقع پر ملازمین نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حکومتِ ہند، بالخصوص وزارتِ تعلیم اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے حاصل ہونے والی مسلسل حمایت، مشوروں اور رہنمائی پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔

تقریب میں بتایا گیا کہ طلبہ یونین انتخابات کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ انتظامیہ کی جانب سے تقریباً آٹھ مرتبہ اجلاس منعقد کیے گئے۔ مسلسل مذاکرات اور مشاورت کے نتیجے میں دو دہائیوں سے جاری تعطل کا ایک جمہوری اور خوشگوار حل ممکن ہوسکا۔ اس پیش رفت کو انتظامیہ کی جانب سے طلبہ سے رابطہ برقرار رکھنے اور ان کے مسائل سننے کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

جامعہ کے اساتذہ نے موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے تقریباً بیس برس سے زیرِ التوا معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ ماضی میں اس مسئلے کو یا تو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا یا اس کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق موجودہ انتظامیہ نے اپنی مستقل سنجیدگی اور مخلصانہ کوششوں سے جمہوریت، مکالمے اور طلبہ دوست طرزِ حکمرانی کے تئیں اپنے عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔

اگرچہ اساتذہ نے 18 اکتوبر سے انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیے گئے مشاورتی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے رویے کی تعریف کی، تاہم انہوں نے یونیورسٹی کے احاطے میں ملک مخالف تحریریں اور نعرے درج کرنے، یونیورسٹی کے دروازوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار افراد اور گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

اساتذہ نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے بعض بیانیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر، انسٹاگرام ریلز اور فیس بک پوسٹس کے ذریعے پورے معاملے کو کامیاب اور ناکام فریقوں کے درمیان مقابلے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے جامعہ برادری میں اختلافات اور تقسیم کو ہوا مل سکتی تھی۔

انہوں نے اس امر پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ارکان، پراکٹوریل ٹیموں، ہاسٹل پرووسٹس اور دیگر ملازمین کی شبیہ کو طلبہ مخالف اور غیر حساس ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، حالاں کہ ان تمام افراد نے ادارے کے نظم و نسق اور تعلیمی ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

جامعہ کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کا کہنا تھا کہ 29 اکتوبر کی رات جاری ہونے والے حکم نامے نے اس طرح کے تمام منفی بیانیوں کی حقیقت واضح کردی ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ طلبہ سے بات چیت کرنے، ان کے مطالبات سننے اور ان کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کیے بغیر کسی جمہوری حل تک پہنچنے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔

شرکا نے واضح کیا کہ اس معاملے کا حل کسی ایک فریق کی دوسرے پر فتح نہیں ہے، بلکہ یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مشترکہ اقدار، جمہوری روایات اور باہمی احترام کی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل طاقت اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے اور اپنے تمام ارکان کے وقار کا تحفظ کرنے میں مضمر ہوتی ہے۔

تقریب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جامعہ انتظامیہ نے طلبہ کے ساتھ رابطے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھ کر ان روایات کی پاسداری کی ہے جنہیں ادارے کے وطن دوست اور حق پسند بانیوں اور سرپرستوں نے قائم کیا تھا۔ جامعہ کے 106ویں یومِ تاسیس کے موقع پر اس نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امن، عدم تشدد، اخوت اور باہمی احترام اس کے ادارہ جاتی کردار اور تعلیمی ماحول کی بنیادی اقدار رہیں گی۔

اساتذہ اور ملازمین نے تقریب کے اختتام پر کہا کہ حالیہ پیش رفت جامعہ ملیہ اسلامیہ، اس کی جمہوری روایات اور اس کی دیرینہ ادارہ جاتی اقدار کی فتح ہے۔ ان اقدار کو گزشتہ ایک صدی سے زیادہ عرصے کے دوران نہایت احتیاط کے ساتھ پروان چڑھایا اور محفوظ رکھا گیا ہے۔