نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے اہم اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ نے طلبہ یونین کے آئین کی منظوری اور نفاذ کے لیے 15 مئی 2027 تک کی مہلت مقرر کی ہے۔ اس کے بعد نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے چھ ہفتوں کے اندر طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں گے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے 29 اکتوبر کو جاری حکم نامے کے مطابق، طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے بعد لنگڈوہ کمیٹی کی سفارشات اور متعلقہ رہنما اصولوں کے تحت انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ یونیورسٹی کا نیا تعلیمی سیشن 16 جولائی 2027 سے شروع ہونے کا شیڈول ہے۔
طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیاں واپس ہوں گی
انتظامیہ نے احتجاج میں شامل طلبہ کے خلاف جاری کیے گئے شوکاز نوٹس اور تادیبی کارروائیاں واپس لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس فیصلے میں معطلی، یونیورسٹی سے اخراج اور کیمپس میں داخلے پر پابندی جیسے احکامات بھی شامل ہیں۔
حکم نامے میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے دھرنا اور بھوک ہڑتال فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ تاہم، انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد طلبہ احتجاج ختم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں، اس بارے میں ان کا حتمی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔
2006 سے معطل ہے طلبہ یونین کا انتخابی عمل
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات 2006 سے نہیں ہوئے ہیں۔ یونین کی بحالی اور انتخابات کے لیے واضح تاریخ مقرر کرنے کے مطالبے پر طلبہ 12 اکتوبر سے احتجاج اور بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔احتجاج کرنے والے طلبہ کا مطالبہ تھا کہ یونین کے آئین کی منظوری کے لیے ایک مقررہ مدت کا اعلان کیا جائے اور انتخابات کو غیر معینہ مدت تک ملتوی نہ رکھا جائے۔
انتظامیہ کے تازہ فیصلے سے آئین کی منظوری اور انتخابات کے لیے ایک مجوزہ ٹائم لائن سامنے آ گئی ہے، لیکن آئین کی منظوری اور انتخابات کا انعقاد ابھی باقی ہے۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ طلبہ انتظامیہ کے اعلان پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور آیا اس کے بعد احتجاج اور بھوک ہڑتال ختم ہو پاتی ہے یا نہیں۔