جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر عرفان حیدر خان نے جیتا ورلڈ گرین انفراسٹرکچر ایوارڈ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-10-2026
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر عرفان حیدر خان نے جیتا ورلڈ گرین انفراسٹرکچر ایوارڈ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر عرفان حیدر خان نے جیتا ورلڈ گرین انفراسٹرکچر ایوارڈ

 



نئی دہلی :  جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ آرکیٹیکچر کے حالیہ پی ایچ ڈی گریجویٹ ڈاکٹر عرفان حیدر خان نے ورلڈ گرین انفراسٹرکچر نیٹ ورک ایوارڈ 2026 جیت لیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز گرین انفراسٹرکچر ریسرچ کے تحت اکیڈمک ورک کے زمرے میں ان کی تحقیق کے لیے دیا گیا ہے۔ ان کی تحقیق کا عنوان ’’نئی دہلی ہندوستان میں سبز دیواروں کی آب و ہوا کے مطابق توانائی کی کارکردگی‘‘ ہے۔ یہ تحقیق شعبۂ آرکیٹیکچر کی پروفیسر ڈاکٹر طیبہ منور کی نگرانی میں مکمل کی گئی۔

یہ ایوارڈ 27 اکتوبر 2026 کو اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقدہ ورلڈ گرین انفراسٹرکچر کانگریس 2026 کے دوران پیش کیا گیا۔ 42 سے زائد ممالک سے موصول ہونے والی بین الاقوامی درخواستوں میں سے اس تحقیق کا انتخاب کیا گیا۔ یہ کامیابی پائیدار تعمیرات اور آب و ہوا کے تقاضوں سے ہم آہنگ آرکیٹیکچر کے شعبے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تحقیقی خدمات کی عالمی سطح پر پذیرائی کی عکاس ہے۔

ڈاکٹر عرفان حیدر خان کی تحقیق میں جائزہ لیا گیا ہے کہ سبز دیواریں نئی دہلی کی آب و ہوا میں عمارتوں کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور ٹھنڈک کے لیے درکار توانائی کو کم کرنے میں کس طرح مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس مطالعے میں میدانی پیمائشوں اور موسم کے لحاظ سے پودوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے تجزیے کے ساتھ عمارتوں کی توانائی کی کارکردگی کے سمیولیشنز کو بھی شامل کیا گیا۔ تحقیق میں اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ پودوں میں موسمی تبدیلیاں عمارتوں کی توانائی کی ضروریات کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج آرکیٹیکٹس محققین اور پالیسی سازوں کے لیے مفید ہیں۔ ان کی مدد سے عمارتوں کے ڈیزائن میں عمودی سبزہ شامل کرنے اور توانائی کی بچت کے ساتھ موسمی حالات سے ہم آہنگ تعمیرات کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر عرفان حیدر خان کے لیے یہ کامیابی ان کے تحقیقی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس سے قبل 2025 میں سلووینیا کے شہر شکو فیا لوکا میں منعقدہ ورلڈ گرین انفراسٹرکچر نیٹ ورک ایوارڈز میں انہیں اسی زمرے میں اعزازی ذکر سے نوازا گیا تھا۔ اس وقت ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے کا عنوان ’’توانائی کی بچت والی آرکیٹیکچر کے لیے عمودی سبزہ نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ۔ دہلی کا ایک مطالعہ‘‘ تھا۔

2025 میں اعزازی ذکر سے 2026 میں زمرے کا ایوارڈ جیتنے تک کا سفر ان کی تحقیق کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کامیابی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ آرکیٹیکچر کی ان کوششوں کو بھی نمایاں کرتی ہے جو پائیدار تعمیراتی ٹیکنالوجی اور آب و ہوا سے ہم آہنگ ڈیزائن کے فروغ کے لیے کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر عرفان حیدر خان کی یہ بین الاقوامی کامیابی توانائی کی بچت والی عمارتوں اور پائیدار شہری ترقی کے میدان میں ان کی تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تحقیقی معیار اور ماحولیاتی پائیداری سے متعلق عصری چیلنجوں سے نمٹنے میں اس کے کردار کو بھی نمایاں کرتی ہے۔