جامعہ ملیہ اسلامیہ نے طلبہ یونین کا آئین مرتب کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-10-2026
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے طلبہ یونین کا آئین مرتب کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے طلبہ یونین کا آئین مرتب کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی

 



نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کیمپس میں جاری طلبہ احتجاج کے مسئلے کو بات چیت اور باہمی اعتماد کے ذریعے حل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو بامعنی اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں 18 اکتوبر 2026 کو احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کرنے اور ان کے مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے سینئر ڈینز اور پروفیسران پر مشتمل 7 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے طلبہ کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا اور کیمپس میں طلبہ کی نمائندگی کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔

کمیٹی نے اگلے ہی دن یعنی 19 اکتوبر کی صبح احتجاج کرنے والے طلبہ سے رابطہ قائم کیا اور بات چیت کا آغاز کرنے کے مقصد سے احتجاجی مقام کا دورہ کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ ابتدائی رابطہ مثبت اور نتیجہ خیز رہا جس سے آگے کے مذاکرات کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ اس کے بعد کمیٹی نے طلبہ سے ان کے نمائندوں کی فہرست فراہم کرنے کو کہا اور ان کے ایک نمائندہ گروپ کو ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے دفتر میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا۔

اس دعوت کے جواب میں طلبہ کے نمائندوں نے 20 اکتوبر کو ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی۔ یہ میٹنگ تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہی جس میں طلبہ کے موقف کو سنا گیا اور ان کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد 20 اکتوبر کی شام ساڑھے 6 بجے ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر کے دفتر میں ایک اور اجلاس منعقد ہوا۔ اس میٹنگ کا مقصد مذاکرات کے دوران ہونے والی بات چیت کو باضابطہ دستاویزی شکل دینا اور اجلاس کی روداد کو حتمی شکل دینا تھا۔ اس میں طلبہ کی جانب سے پیش کردہ اہم تجاویز کو بھی شامل کیا گیا۔

تاہم متعدد دور کی بات چیت اور اجلاس کی کارروائی کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کے باوجود طلبہ نے کارروائی کی روداد پر دستخط کرنے سے اتفاق نہیں کیا۔ اس کے باوجود اعلیٰ سطحی کمیٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور طلبہ کی نمائندگی کے معاملے پر آگے بڑھنے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔

اسی سلسلے میں آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی بھی موجود تھے۔ میٹنگ میں 18 اکتوبر کو تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے تمام اراکین کے علاوہ جامعہ کے تمام ڈینز، ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر، کنٹرولر امتحانات، ڈین اکیڈمک افیئرز، چیف پراکٹر، تمام پرووسٹس، چیف پبلک ریلیشنز آفیسر اور سیکیورٹی ایڈوائزر نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ اب تک ہونے والی بات چیت پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کیمپس میں امن و امان کی بحالی اور معمول کی تعلیمی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ طلبہ کی نمائندگی کے دیرینہ مسئلے کو قانونی اور ادارہ جاتی تقاضوں کے مطابق کس طرح حل کیا جا سکتا ہے۔

تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ نے طلبہ یونین کا آئین مرتب کرنے کے لیے ایک الگ کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔ یونیورسٹی کے مطابق یہ اقدام جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ 1988 کی دفعہ 23 کی شقوں (جے) اور (کے) کے تحت کیا گیا ہے۔ مجوزہ کمیٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کو 2006 میں تحلیل کیے جانے کے اسباب کا جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ ہی طلبہ یونین سے متعلق مختلف عدالتی فیصلوں اور لنگدوہ کمیٹی کی 2007 کی سفارشات کا بھی مطالعہ کیا جائے گا تاکہ آئندہ کے لیے ایک مناسب اور قانونی طور پر قابل عمل لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق طلبہ یونین کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آخری اسٹوڈنٹس یونین کو 2006 میں تحلیل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے تقریباً 2 دہائیاں گزر چکی ہیں اور اس دوران ملک کے تعلیمی، قانونی اور ادارہ جاتی ماحول میں متعدد اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے پیش نظر طلبہ یونین کے قیام اور اس کے انتخابات کے معاملے پر موجودہ قانونی صورت حال اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی روشنی میں دوبارہ غور کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات سے متعلق عدالتی احکامات کا جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ طلبہ تنظیموں اور ملک کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور اعلیٰ تعلیم کے دیگر اداروں میں طلبہ یونین کے انتخابات سے متعلق لنگدوہ کمیٹی کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔ کمیٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے متعلقہ قوانین، ضوابط اور آرڈیننس کا جائزہ لے کر اس بات کا تعین کرے گی کہ طلبہ یونین کے قیام اور انتخابات کے لیے کون سا طریقہ کار قانونی تقاضوں اور یونیورسٹی کے موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچے سے مطابقت رکھتا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کی نمائندگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک ایسا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے جو قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے جمہوری حقوق اور ادارے کے تعلیمی ماحول کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔ اسی مقصد کے تحت کمیٹی کو مختلف قانونی فیصلوں، سابقہ سفارشات اور جامعہ کے ضوابط کا تفصیلی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کی طبی نگرانی کے لیے ٹیم تعینات

احتجاج کرنے والے طلبہ کی صحت، خیریت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے طبی انتظامات بھی کیے ہیں۔ یونیورسٹی نے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ارشاد حسین نقوی کی نگرانی میں ایک طبی ٹیم تعینات کی ہے جو بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کی صحت کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے گی۔ اس ٹیم کا مقصد طلبہ کی طبی حالت کا باقاعدگی سے جائزہ لینا اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ضروری طبی امداد فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ احتجاجی مقام پر ایک ایمبولینس بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر طلبہ کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق احتجاج کے دوران طلبہ کی صحت اور سلامتی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اسی لیے طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی اور پرامن احتجاج کے حق پر زور

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے بیان میں اظہار رائے کی آزادی کو بنیادی حق اور جمہوری عمل کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کو اپنے خیالات، خدشات اور اختلاف رائے کا پرامن انداز میں اظہار کرنے کے لیے مناسب مواقع فراہم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلبہ کو اپنے مسائل اور مطالبات سامنے رکھنے کا موقع ملنا چاہیے اور اس عمل میں پرامن مکالمے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی اصول کے تحت جامعہ انتظامیہ نے طلبہ کے لیے اظہار رائے کی آزادی کے استعمال اور پرامن احتجاج کے مقصد سے ایک مخصوص مقام مختص کیا ہے۔ اس سلسلے میں گیٹ نمبر 18 کو طلبہ کے احتجاج کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ تاہم یونیورسٹی کے مطابق احتجاج کرنے والے طلبہ 12 اکتوبر سے غالب لان میں دھرنا دے رہے ہیں۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ طلبہ کے پرامن احتجاج اور اختلاف رائے کے حق کا احترام کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران یونیورسٹی کی املاک، تاریخی ورثے اور تعلیمی ماحول کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اور ادارے کی املاک کی حفاظت ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔

غالب کے تاریخی مجسمے اور یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچنے پر تشویش

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے غالب کے مشہور اور تاریخی مجسمے کو مسخ کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ مجسمہ ایک طویل عرصے سے یونیورسٹی کی شناخت، ادبی روایت اور ثقافتی ورثے کی علامت کے طور پر موجود ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس تاریخی مجسمے کو نقصان پہنچانا انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے جامعہ کے ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچا ہے۔

یونیورسٹی نے اپنے مختلف دروازوں اور عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ خاص طور پر گیٹ نمبر 7 کا ذکر کیا گیا ہے جسے ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس دروازے سمیت دیگر دروازوں، دیواروں، شعبہ جاتی عمارتوں کے بیرونی حصوں اور مشترکہ مقامات کو پہنچنے والا نقصان افسوسناک ہے۔

اس کے علاوہ غالب کے مجسمے کے ارد گرد واقع مرکزی لان اور اس کے اطراف میں املاک کو پہنچنے والے نقصان کو بھی سنگین معاملہ قرار دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ تاریخی مجسمے پر تحریریں لکھا جانا خاص طور پر تکلیف دہ اور مایوس کن ہے کیونکہ یہ مجسمہ جامعہ کی شناخت اور اس کے تاریخی و ادبی ورثے سے جڑا ہوا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے جمہوری حقوق اور پرامن احتجاج کے حق کا استعمال ذمہ داری اور بالغ نظری کے ساتھ کریں۔ انتظامیہ کے مطابق اختلاف رائے کا اظہار جمہوری معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے لیکن اس کے ساتھ ادارے کے بنیادی ڈھانچے، تاریخی مقامات اور مشترکہ املاک کی حفاظت بھی تمام طلبہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ 106 سال قدیم ادارہ ہے اور اس کی شناخت اس کی تعلیمی روایات، ثقافتی ورثے اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی مشترکہ کاوشوں سے قائم ہوئی ہے۔ انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جامعہ کی املاک اور تاریخی ورثہ پوری جامعہ برادری کی مشترکہ ملکیت ہیں اور ان کا تحفظ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

طلبہ کی نمائندگی کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ طلبہ کی نمائندگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔ یہ معاملہ تقریباً 2 دہائیوں سے حل طلب ہے اور اس کی اہمیت کے پیش نظر یونیورسٹی اس کا جامع اور تفصیلی جائزہ لینے کے لیے پرعزم ہے۔

انتظامیہ کے مطابق اس مسئلے کا حل تلاش کرتے وقت لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات، جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ 1988، یونیورسٹی کے متعلقہ آرڈیننس اور دیگر ضوابط کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات سے متعلق عدالتوں کے احکامات کی بھی پابندی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اختیار کیا جانے والا طریقہ کار قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کے قیام اور انتخابات کے معاملے میں کسی بھی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس میں ماضی کے فیصلے، عدالتی احکامات، طلبہ کی نمائندگی سے متعلق سفارشات اور جامعہ کے موجودہ قوانین شامل ہیں۔ انتظامیہ اس بات کی خواہاں ہے کہ اس عمل کے ذریعے ایسا حل سامنے آئے جو طلبہ کی نمائندگی کے مسئلے کو مؤثر انداز میں حل کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے قانونی اور ادارہ جاتی تقاضوں کو بھی پورا کرے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ طلبہ کے حقوق کے تحفظ، جمہوری اقدار کی پاسداری اور کیمپس میں امن و امان کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ اس کے ساتھ ہی یونیورسٹی اپنے تعلیمی ماحول، روایات، ثقافتی ورثے اور قومی و بین الاقوامی سطح پر قائم اپنی ساکھ کے تحفظ کو بھی اہمیت دیتی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق جامعہ کی ترجیح یہ ہے کہ طلبہ کے مطالبات پر بامعنی بات چیت جاری رہے اور اس دیرینہ مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے جو تمام متعلقہ قانونی اور ادارہ جاتی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہو۔ یونیورسٹی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ وہ طلبہ کے ساتھ مکالمے کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے اور کیمپس میں معمول کی تعلیمی سرگرمیوں اور پرامن ماحول کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔