جامعہ ملیہ اسلامیہ: تمام کلاسیں آن لائن کرنے کا فیصلہ ۔ احتجاج ختم کرانے کی کوشش ناکام ۔ اساتذہ کی طلبہ سے کیمپس خالی کرنے کی اپیل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-10-2026
جامعہ ملیہ اسلامیہ: تمام کلاسیں آن لائن کرنے کا فیصلہ/ احتجاج ختم کرانے کی کوشش ناکام ۔ اساتذہ کی طلبہ سے کیمپس خالی کرنے کی اپیل
جامعہ ملیہ اسلامیہ: تمام کلاسیں آن لائن کرنے کا فیصلہ/ احتجاج ختم کرانے کی کوشش ناکام ۔ اساتذہ کی طلبہ سے کیمپس خالی کرنے کی اپیل

 



نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے مطالبے پر جاری طلبہ کے احتجاج کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کورسز کی کلاسیں فوری طور پر آن لائن موڈ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیمپس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طلبہ کی سلامتی کے پیش نظر کیے گئے اس فیصلے کے تحت طلبہ کو آن لائن کلاسوں میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگلے اعلامیے تک یونیورسٹی کے دروازے اور لائبریریاں بند رہیں گی اور طلبہ کیمپس آنے سے گریز کریں۔اس کا اعلان  یونیورسٹی کے ایک پریس ریلیز میں کیا گیا ہے 

دوسری جانب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے کیمپس کی دیواروں پر قابل اعتراض نعرے لکھے جانے اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔ اساتذہ اور ملازمین نے ان واقعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کرتی ہیں بلکہ 106 سالہ تاریخ رکھنے والے اس اہم تعلیمی ادارے کی ساکھ اور وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے طلبہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان ثالثی اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے قائم کی گئی سات رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

اساتذہ اور ملازمین کا اجلاس اور دو قراردادوں کی منظوری

ہفتے کی صبح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 15 سے زائد تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف اور مسجل پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کی موجودگی میں انصاری آڈیٹوریم کے لان میں ایک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی موجودہ صورت حال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ اجلاس طلبہ کے ساتھ مذاکرات کے چار دور مکمل ہونے اور گزشتہ رات اعلیٰ سطحی کمیٹی کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل جاری کیے جانے کے بعد منعقد ہوا۔ اجلاس میں اساتذہ اور ملازمین نے کیمپس میں توڑ پھوڑ اور دیواروں پر انتہائی قابل اعتراض نعرے تحریر کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ جیسے تاریخی تعلیمی ادارے میں اس طرح کے واقعات سے نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ ادارے کی دیرینہ شناخت اور ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر دو قراردادیں منظور کی گئیں۔ پہلی قرارداد میں فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے اپیل کی جائے گی کہ وہ احتجاجی مقام خالی کر دیں اور اپنا احتجاج ختم کر کے کیمپس میں معمول کے حالات بحال کرنے میں تعاون کریں۔

اساتذہ نے خاص طور پر غالب مجسمہ لان میں جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقام طلبہ کے احتجاج کے لیے مقرر نہیں ہے۔ ان کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج کے لیے گیٹ نمبر 18 کو مخصوص مقام قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے مظاہرین سے کہا گیا کہ وہ مقررہ مقام پر احتجاج کریں اور یونیورسٹی کے دیگر حصوں میں تعلیمی سرگرمیوں اور معمولات کی بحالی میں رکاوٹ نہ بنیں۔

دوسری قرارداد کے تحت تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے ان دیواروں پر دوبارہ رنگ و روغن کرنے کا فیصلہ کیا جنہیں احتجاج کے دوران خراب کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دیواروں پر لکھے گئے قابل اعتراض نعروں کو مٹانے یا ڈھانپنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا۔

اجلاس میں ان نعروں کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات ملک کی سالمیت، سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔ اساتذہ نے متنبہ کیا کہ چند افراد کی سرگرمیوں کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کے اثرات جامعہ سے وابستہ طلبہ اور دیگر افراد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

جامعہ کی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل پر تشویش

اجلاس میں شریک اساتذہ اور ملازمین نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ اور اس کے تعلیمی ورثے کا تحفظ پوری یونیورسٹی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق احتجاج اور اختلاف رائے کے باوجود ادارے کی املاک کو نقصان پہنچانا یا ایسے نعرے لکھنا جن سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو، کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔

اساتذہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعہ کے وقار کو پہنچنے والا نقصان صرف انتظامیہ یا اساتذہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے یہاں زیر تعلیم طلبہ کی شناخت اور مستقبل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی ساکھ پر منفی اثرات طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع، ملازمت کے امکانات اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف اور مسجل پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے بھی یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچانے اور دیواروں پر قابل اعتراض نعرے لکھے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق ایسے واقعات سے جامعہ کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کے ساتھ طلبہ کے وقار اور اعتبار پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

اساتذہ نے کہا کہ جن لوگوں نے کئی دہائیوں تک جامعہ میں خدمات انجام دی ہیں وہ اس ادارے کو غیر یقینی صورت حال اور مسلسل کشیدگی کا شکار ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ ان کا موقف تھا کہ کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت اور باہمی تعاون سے تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ تعلیمی ماحول کو محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس میں سوشل میڈیا پر احتجاج سے متعلق پھیلائی جانے والی اطلاعات پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ اساتذہ نے کہا کہ غلط یا گمراہ کن معلومات سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور یونیورسٹی کی ساکھ کو غیر ضروری نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کا دو دہائی پرانا مسئلہ

اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اراکین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات سے متعلق مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود احتجاج کرنے والے طلبہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کے لیے مطلوبہ تعاون نہیں کر رہے۔کمیٹی نے بتایا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کو 2006 میں معطل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت یونیورسٹی میں پرتشدد جھڑپوں اور اساتذہ پر حملوں کے علاوہ وقتاً فوقتاً کلاسوں میں خلل ڈالنے کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔

کمیٹی کے مطابق موجودہ انتظامیہ نے اس طویل عرصے سے زیر التوا معاملے کو حل کرنے کی سمت میں قدم اٹھاتے ہوئے 21 اکتوبر 2026 کو جے ایم آئی اسٹوڈنٹس یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ اساتذہ نے اس اقدام کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2006 کے بعد سے کسی شیخ الجامعہ یا مسجل کی جانب سے اس نوعیت کا قدم نہیں اٹھایا گیا تھا۔

کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جانے کے باوجود بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ نے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ ان کے مطابق یونیورسٹی کی کوشش تھی کہ طلبہ کے مطالبات پر بات چیت کرتے ہوئے ایسا راستہ نکالا جائے جس سے احتجاج ختم ہو اور تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ معمول کے مطابق شروع ہو سکیں۔

تادیبی کارروائیوں کے جائزے کی یقین دہانی بھی بے اثر

اعلیٰ سطحی کمیٹی کے مطابق طلبہ سے مسلسل رابطے کی کوششوں کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ نے 21 اکتوبر کو ایک اور اعلامیہ جاری کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ احتجاج میں شریک ان طلبہ کے خلاف کی گئی یا شروع کی گئی تادیبی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا جن کا تعلق 12 اکتوبر 2026 سے 21 اکتوبر 2026 کی شام 5 بج کر 30 منٹ تک پیش آنے والے واقعات سے تھا۔

کمیٹی نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی اس امید کے ساتھ کرائی گئی تھی کہ طلبہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے میں تعاون کریں گے۔ تاہم کمیٹی کے مطابق اس اقدام کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوا اور طلبہ اپنے موقف پر قائم رہے۔

اساتذہ نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کے دوران مقامی، علاقائی اور قومی سیاسی جماعتوں اور مختلف گروہوں کے رہنماؤں اور نمائندوں کو مدعو کیے جانے سے صورت حال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی مداخلت اور کیمپس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے تعلیمی ماحول متاثر ہو سکتا ہے اور توڑ پھوڑ، بدنظمی اور یونیورسٹی کی املاک کو مزید نقصان پہنچنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔کمیٹی نے واضح کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے مطالبات پر غور اور بات چیت کی کوششیں جاری رہیں لیکن کیمپس میں امن و امان اور تعلیمی سرگرمیوں کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

طلبہ سے بات چیت کے لیے اساتذہ کا مارچ

اجلاس میں دونوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیے جانے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے انصاری آڈیٹوریم کے لان سے مارچ شروع کیا۔ یہ مارچ گیٹ نمبر 13 سے گزرتے ہوئے مرکزی سڑک عبور کر کے گیٹ نمبر 7 تک پہنچا۔ اس کے بعد اساتذہ اور ملازمین احتجاجی مقام کی جانب بڑھے تاکہ مظاہرین سے براہ راست بات چیت کی جا سکے اور انہیں احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

اساتذہ کی جانب سے تقریباً دو گھنٹے تک کوشش کی گئی کہ طلبہ احتجاج ختم کر دیں اور کیمپس میں معمول کے حالات بحال کرنے میں تعاون کریں۔ تاہم اس کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ طلبہ نعرے لگاتے رہے اور اساتذہ سے واپس جانے کا مطالبہ کرتے رہے۔کمیٹی اور اجلاس میں شریک عملے کے مطابق صورت حال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب مظاہرین نے سیکورٹی گارڈز، ملازمین اور اساتذہ کو دھکے دینا شروع کر دیا۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ سینئر اساتذہ کی جانب سے بار بار اپیل کیے جانے کے باوجود طلبہ نے ان کی بات نہیں سنی۔

اساتذہ نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ اسی ہفتے کے اوائل میں طلبہ کے مطالبات تسلیم کیے جانے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوششوں کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوا۔ بالآخر تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے احتجاجی مقام سے واپس جانے کا فیصلہ کیا اور وہ دوبارہ انصاری آڈیٹوریم پہنچ گئے۔

 

کیمپس میں کشیدگی کے بعد کلاسیں آن لائن

دن بھر پیش آنے والے واقعات اور کیمپس میں پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ نے تمام کورسز کی کلاسیں فوری طور پر آن لائن منعقد کرنے کا اعلامیہ جاری کیا۔اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ حالات میں باقاعدہ طلبہ کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے طلبہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی آن لائن کلاسوں کے مقررہ نظام الاوقات کی پابندی کریں اور غیر ضروری طور پر یونیورسٹی کیمپس آنے سے گریز کریں۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک کلاسیں آن لائن موڈ میں جاری رہیں گی اور یونیورسٹی کی جانب سے اگلا حکم جاری نہیں ہوتا اس وقت تک جامعہ کے دروازے اور لائبریریاں بند رہیں گی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے مطالبے سے شروع ہونے والا یہ تنازع اب کیمپس کے تعلیمی معمولات پر بھی اثر انداز ہو گیا ہے۔ ایک طرف یونیورسٹی انتظامیہ اور اعلیٰ سطحی کمیٹی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تو دوسری جانب احتجاج ختم نہ ہونے اور کیمپس میں کشیدگی برقرار رہنے کے باعث تعلیمی سرگرمیاں آن لائن منتقل کر دی گئی ہیں۔اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ انتظامیہ اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو پاتے ہیں یا نہیں اور جامعہ میں معمول کے تعلیمی حالات کب بحال ہوتے ہیں۔