ایک ہاتھ میں جماعت اور دوسرے میں دماغی نکسل۔ سووندو ادھیکاری کا ممتا بنرجی پر نشانہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
ایک ہاتھ میں جماعت اور دوسرے میں دماغی نکسل۔ سووندو ادھیکاری کا ممتا بنرجی  پر نشانہ
ایک ہاتھ میں جماعت اور دوسرے میں دماغی نکسل۔ سووندو ادھیکاری کا ممتا بنرجی پر نشانہ

 



کولکاتا۔:مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سووندو ادھیکاری نے منگل کو دعویٰ کیا کہ انڈیا اتحاد ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے دورہ دہلی کے دوران ان لوگوں سے ملاقات ہوسکتی ہے جنہیں انہوں نے "دماغی نکسل" قرار دیا اور ان لوگوں سے بھی جو "آزادی" کے نعرے لگاتے ہیں۔انڈیا اتحاد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ادھیکاری نے کہا کہ انڈیا اتحاد بہت پہلے ختم ہوچکا ہے۔ ممتا بنرجی دہلی میں کیا کرنے جارہی ہیں۔ وہ "دماغی نکسل" اور آزادی کے نعرے لگانے والوں کے ساتھ منصوبہ بندی کرنے جارہی ہیں۔ میں دہلی سے کہوں گا کہ ان پر گہری نظر رکھیں۔ کسی بھی ملک مخالف قوت کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ممتا بنرجی کے ایک ہاتھ میں جماعت ہے اور دوسرے ہاتھ میں "دماغی نکسل" ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اب دماغی نکسلوں کو بنیادی منتر دے رہی ہے۔ ان کے ایک ہاتھ میں جماعت ہے اور دوسرے ہاتھ میں دماغی نکسل ہے۔ممتا بنرجی بدھ کو دہلی میں انڈیا اتحاد کے اجلاس میں شرکت کرنے والی ہیں۔ اس اجلاس میں اپوزیشن رہنما انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کے خلاف ملک گیر احتجاج کی مجوزہ مہم پر غور کرسکتے ہیں۔ہندوستان کے الیکشن کمیشن اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے معاملے پر جاری تنازع کے درمیان ادھیکاری نے اتوار کو کہا تھا کہ منطقی تضادات کی وجہ سے 27 لاکھ اندراجات کو مسترد کرنے کا فیصلہ سرکاری افسران نے نہیں بلکہ عدلیہ نے کیا تھا۔ انہوں نے ممتا بنرجی پر عدالتوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔

اے این آئی سے بات کرتے ہوئے سووندو ادھیکاری نے کہا کہ بنگال میں ایس آئی آر کے دوران منطقی تضادات کی وجہ سے 27 لاکھ اندراجات کو سرکاری افسران نے مسترد نہیں کیا۔ ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی سپریم کورٹ گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے ضلعی ججوں کو مقرر کیا تھا اور انہی ضلعی ججوں نے نام حذف کیے۔ اس لیے وہ عدلیہ کے خلاف بات کررہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران منطقی تضادات سے متعلق کارروائی سرکاری افسران نے نہیں بلکہ عدلیہ نے انجام دی۔ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کا استعمال کرتے ہوئے انتخابی رجسٹریشن افسر کے اختیارات واپس لے لیے اور ضلعی ججوں کو براہ راست نام حذف کرنے کا اختیار دیا۔ عدلیہ کو چیلنج کرنا بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

دریں اثنا دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کرگیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ایس آئی آر کی مشق سے متعلق فیصلوں اور طریقہ کار پر 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات اٹھائے تھے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ ان مبینہ اعتراضات سے ادارے کے اندر اختلافات ظاہر ہوتے ہیں۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق فیصلے کمیشن کی متفقہ منظوری سے کیے گئے تھے۔