جماعت اسلامی ہند کی حکومت سے عوامی مسائل پر ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی اپیل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 04-10-2026
جماعت اسلامی ہند کی حکومت سے عوامی مسائل پر ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی اپیل
جماعت اسلامی ہند کی حکومت سے عوامی مسائل پر ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی اپیل

 



 نئی دہلی،: جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ عوامی مسائل پر ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ جماعت کی قیادت نے مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کو نشانہ بنائے جانے، ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پُرامن عوامی احتجاج پر پابندیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کار پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 کروڑ نام ووٹر فہرستوں سے باہر کر دیے گئے ہیں۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل سے سماج میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔ ووٹر فہرست جمہوری نظام کی بنیاد ہے، اس لیے بڑے پیمانے پر کی جانے والی نظرثانی کے عمل میں غیر معمولی شفافیت اور احتیاط ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج، الیکشن کمیشن آف انڈیا کی خودمختاری، آئینی طرزِ عمل اور حقِ رائے دہی سے متعلق معاملات میں عدلیہ کے رویے سے پیدا ہونے والے سوالات نے عوام کے اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد میں کمی ملک کے امن، استحکام اور نظم و نسق کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل سے متعلق خدشات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کریں اور اگر الیکشن کمیشن عوام کا اعتماد برقرار رکھنے میں ناکام رہتا ہے تو رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر کا عمل فوری طور پر روکا جائے، نظرثانی سے متاثرہ ووٹروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کے نام دوبارہ ووٹر فہرستوں میں شامل کیے جائیں۔ انہوں نے بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات اور غلط کام کے ثبوت ملنے کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کی ذمہ داری طے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور غیر متعصبانہ کردار کو یقینی بنانے کے لیے اس کی تشکیل اور تقرری کے طریقۂ کار میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس عمل میں حکومت، اپوزیشن اور عدلیہ کی شرکت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

پُرامن احتجاج شہریوں کا جمہوری حق: سلیم انجینئر

پروفیسر سلیم انجینئر نے پُرامن جمہوری احتجاج کو دبانے کے لیے پولیس کی کارروائیوں پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمز کی جانب سے منعقدہ حالیہ احتجاج اور 2 اکتوبر کو ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کیے گئے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی احتجاج کی اجازت سے انکار اور پُرامن مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے واقعات نے اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کے لیے پُرامن احتجاج شہریوں کا جمہوری حق ہے۔ حکومت اور پولیس انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پُرامن مظاہروں کے لیے پیشگی اجازت کو لازمی قرار دینے کے بجائے صرف پیشگی اطلاع کو کافی سمجھا جانا چاہیے۔

جماعت نے غیر ضروری حراست اور ایف آئی آر ختم کرنے، پولیس کی جانب سے بدسلوکی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ حکومت کو ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، شہریوں اور تنظیموں سے براہِ راست بات چیت کرنی چاہیے اور عوامی رابطوں و مذاکرات کے ذریعے شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے۔

عبادت گاہوں کی مسماری پر بھی جماعت کا اظہارِ تشویش

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے مساجد، گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں کو مبینہ طور پر بار بار نشانہ بنائے جانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انہدامی کارروائیوں سے مذہبی اقلیتوں اور عوام میں ناراضگی، تشویش اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ عبادت گاہیں مختلف طبقات کے لیے مذہبی اور جذباتی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے ان کے خلاف کسی بھی کارروائی میں انصاف، حساسیت اور قانون کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ملک معتصم خان نے الزام عائد کیا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کے خلاف قانون کے امتیازی اطلاق نے انتظامیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق مذہبی مقامات سے متعلق بار بار پیدا ہونے والے تنازعات کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں اور عوام کی توجہ اہم معاشی و سماجی مسائل سے ہٹا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر مذہبی مقامات کو اسی طرح نشانہ بنایا جاتا رہا تو احتجاج پھیل سکتا ہے اور ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے حکام سے مطالبہ کیا کہ عبادت گاہوں سے متعلق معاملات میں قوانین کے مبینہ غلط استعمال کو فوری طور پر روکا جائے اور کسی بھی کارروائی سے قبل تمام فریقوں کے دعووں کی باریک بینی سے جانچ کی جائے۔

ملک معتصم خان نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو، تنازعات کو قانونی تصفیے یا دیگر قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے اور انہدامی کارروائی سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں کسی عدالتی فیصلے یا قانون کے تحت مسماری ناگزیر ہو، وہاں پورے عمل کی عدالتی نگرانی ہونی چاہیے۔ جماعت اسلامی ہند نے ماضی میں کی گئی ان انہدامی کارروائیوں کی بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا جن کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ان کے مطابق جہاں کوئی انہدامی کارروائی غیر قانونی ثابت ہو، وہاں مناسب اقدامات کرتے ہوئے متعلقہ عبادت گاہوں کی تعمیرِ نو اور بحالی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔