دیوبند: دارالعلوم دیوبند کے مہتمم و شیخ الحدیث اور رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے صدر حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے دعا کا اہتمام کریں، اپنے اداروں کے نظام میں اصلاح لائیں اور تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے تحفظ کے لیے جاری جدوجہد میں حالات کی سنگینی کو سمجھنا ضروری ہے، تاہم ان سے مرعوب ہونے کے بجائے حکمت، اصلاح اور درست لائحۂ عمل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل 27 اکتوبر 2026 کو جامع رشید، دارالعلوم دیوبند میں منعقدہ کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ملک کی مختلف ریاستوں اور نیپال سے تعلق رکھنے والے علما، مدارس کے ذمہ داران اور نمائندگان نے شرکت کی۔
حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے صدارتی خطاب میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے دستور، بنیادی مقاصد، ضرورت اور موجودہ تقاضوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مدارس کے نظام تعلیم کو بہتر بنانے، نصاب کے معیار اور اس کی تکمیل، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی اصلاح پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دارالاقامہ کے نظام کو بہتر بنانے اور اساتذہ و ذمہ داران مدارس کے لیے صاحب نسبت بزرگوں سے اصلاحی تعلق قائم رکھنے کو بھی اہم قرار دیا۔انہوں نے مدارس کے داخلی نظام، اصلاح معاشرہ، دفاع اسلام، یونیفارم سول کوڈ اور وندے ماترم جیسے اہم موضوعات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکابر امت نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ابتدا ہی سے قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔ اس لیے موجودہ حالات میں بھی حکمت، قانونی طریقۂ کار اور ضروری احتیاطی تدابیر کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
تحفظ مدارس کے لیے تعلیمی اور سماجی اصلاح ضروری
دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے کلیدی خطاب میں ’’تحفظ مدارس کو درپیش خطرات اور حل‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے مدارس کے دینی و تعلیمی کردار، نئی نسل کی دینی تربیت، گھریلو ماحول کی اصلاح اور معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند ایک خالص مذہبی تعلیمی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد قرآن و حدیث کی تعلیم، دینی احکام پر عمل اور معروف کو اختیار کرنے کے ساتھ منکرات سے اجتناب کی تربیت دینا ہے۔ مدارس سے فارغ ہونے والے علما جہاں بھی جائیں، اپنے اداروں سے تعلق برقرار رکھیں اور دینی تعلیم کے فروغ میں حصہ لیں۔ ضرورت کے مطابق نئے مدارس قائم کرکے نئی نسل کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ بچوں کی دینی تربیت صرف مدارس کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ والدین کو بھی اپنے گھروں کو تربیت کا مرکز بنانا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کو اپنے متعلقین کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس لیے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی اور اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ ضروری ہے۔انہوں نے اکابر دیوبند کے اصلاحی طریقۂ کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کتابوں کے مطالعے کے ساتھ بزرگوں کی صحبت سے اصلاح و تربیت حاصل کرتے تھے اور اس کے بعد دین کی خدمت کے لیے مختلف علاقوں میں پھیل جاتے تھے۔ انہوں نے مدارس کے تعلیمی معیار، طلبہ کی حاضری، امتحانات کی تیاری اور انتظامی امور کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے داخلہ امتحانات میں کامیابی کے لیے طلبہ کو پورے سال محنت کے ساتھ تیار کرنا چاہیے تاکہ وہ امتحانات میں تمام سوالات حل کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔ اساتذہ اور منتظمین طلبہ میں وقت کی پابندی، باقاعدہ حاضری اور مطالعے کی عادت پیدا کریں۔
برادران وطن سے رابطے مضبوط بنانے پر زور
حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ معاشرے کے مختلف طبقات سے قریبی روابط قائم کریں اور برادران وطن کو بھی اپنے پروگراموں میں مدعو کریں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی میل جول اور خوش گوار تعلقات کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے اور مدارس کے حقیقی مقاصد اور خدمات کو بہتر انداز میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے قیام کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکابر دارالعلوم نے دینی و تعلیمی مقاصد کے ساتھ ملک کو غلامی سے آزاد کرانے اور باشندوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کا جذبہ بھی سامنے رکھا تھا۔ آزادی کے بعد ادارے کی توجہ خالص مذہبی تعلیم پر مرکوز رہی تاکہ قرآن و حدیث کی تعلیم، دینی احکام پر عمل اور معاشرے میں معروف و منکر کے حوالے سے درست شعور پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اکابر نے مدارس کے قیام اور دینی تعلیم کے فروغ کی جو بنیاد رکھی تھی، اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں مدارس اسلامیہ کا وسیع نظام قائم ہوا ہے۔نئی نسل کے ایمان و عقائد کی حفاظت اور دینی ماحول کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مخلوط تعلیم سے پیدا ہونے والے دینی و اخلاقی مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے والدین اور مدارس کے ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی تربیت کا بھی اہتمام کریں۔
رابطہ مدارس کی سرگرمیوں اور رپورٹ کا جائزہ
اجلاس کی نظامت رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی نے کی۔ اجلاس کا آغاز دارالعلوم دیوبند کے استاذ تجوید مولانا قاری عبدالرؤف کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ اس کے بعد دو طلبہ نے ترانۂ دارالعلوم کے منتخب اشعار پیش کیے۔جنرل سکریٹری حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی نے 1444ھ میں منعقدہ مجلس عمومی کے سابقہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں صوبائی شاخوں کے تحت منعقدہ مجلس عاملہ اور مجلس عمومی کے اجلاسوں، تدریب المعلمین کے پروگراموں، اجتماعی امتحانات، معائنۂ مدارس، فرق باطلہ کی تردید، اصلاح معاشرہ کے اجلاسوں اور کامیاب طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ تقریبات کی تفصیلات شامل تھیں۔اجلاس میں مجلس عاملہ اور مجلس عمومی کے ارکان کی توسیع کا اعلان کیا گیا جبکہ مرکزی دفتر رابطہ کے دستورالعمل کی بعض دفعات میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔
چھ اہم تجاویز اتفاق رائے سے منظور
اجلاس کے اختتام پر حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد چھ اہم امور سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں جنہیں شرکا نے اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔
مدارس کے نظام تعلیم و تربیت کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔
فرق باطلہ کی تردید اور عقائد کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں۔
مدارس کے داخلی نظام کو مزید مستحکم بنایا جائے۔
رابطہ مدارس اسلامیہ کی اہمیت اجاگر کی جائے اور صوبائی شاخوں کو فعال بنایا جائے۔
دینی مکاتب کے قیام اور فروغ پر زور دیا جائے۔
تعزیتی تجویز منظور کی گئی۔
ان تجاویز پر متعدد علما اور مندوبین نے اظہار خیال کیا اور ان کی تائید کی۔
اجلاس میں اترپردیش، اتراکھنڈ، دہلی، راجستھان، ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ، مغربی بنگال، آسام، میگھالیہ، منی پور، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو، کیرالا اور نیپال سمیت مختلف علاقوں کے تقریباً 8 ہزار مدارس اسلامیہ کے نمائندگان، علما اور مندوبین شریک ہوئے۔اس سے قبل رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس 26 اکتوبر 2026کو دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانے میں منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں مدارس کے نظام تعلیم و تربیت، مدارس کے خلاف منفی پالیسیوں، فرق باطلہ کی تردید و تعاقب، داخلی انتظام کو مستحکم بنانے اور صوبائی شاخوں سے متعلق امور پر اہم فیصلے کیے گئے تھے۔
دونوں اجلاسوں میں دارالعلوم دیوبند کے ارکان شوریٰ، اساتذہ، اہم علما، صوبائی شاخوں کے نمائندگان، مندوبین اور مدعوئین خصوصی نے شرکت کی۔ متعدد علما نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جن میں جموں و کشمیر، بہار، اترپردیش، دہلی، گجرات، آسام، کیرالا، تمل ناڈو، مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے علما شامل تھے۔مجلس عاملہ اور مجلس عمومی دونوں کی نظامت حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی نے انجام دی۔ اجلاس صبح 9 بجے شروع ہوا اور دوپہر ایک بجے صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ دعا سے قبل انہوں نے تمام مہمانوں، مندوبین، انتظامی کمیٹیوں کے کنوینرز، ارکان، کارکنان، رضاکار طلبہ، سرکاری انتظامیہ اور میڈیا کے نمائندگان کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔