مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے تانبے کی مانگ میں اضافہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے تانبے کی مانگ میں اضافہ
مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے تانبے کی مانگ میں اضافہ

 



نئی دہلی:، ایس اینڈ پی گلوبل کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری دنیا بھر میں تانبے کی مانگ میں اضافہ کر رہی ہے۔ تاہم، اگر اے آئی پر ہونے والے اخراجات میں بڑی کمی آتی ہے تو اس سے تانبے کی منڈی کمزور ہو سکتی ہے، اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے اور حصص بازاروں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کی پیداوار اور ترسیل جیسے روایتی شعبوں کے علاوہ اے آئی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ بھی تانبے کی مانگ کا ایک بڑا ذریعہ بن کر ابھر رہا ہے۔

رپورٹ میں تجارتی کمپنی ٹرافیگورا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’اس سال ڈیٹا سینٹر تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن تانبے استعمال کر سکتے ہیں۔ ان مراکز کی تعمیر سے اسٹیل، ایلومینیم اور سیسے کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘ تاہم، بجلی کی قلت ڈیٹا سینٹروں کی تیزی سے توسیع کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ٹرافیگورا کے مطابق 2030 تک ڈیٹا سینٹروں کی منصوبہ بند بجلی کی ضرورت اور دستیاب بجلی کی فراہمی کے درمیان 50 گیگاواٹ کا فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ چیلنج ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب تانبے کی منڈی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری پر تیزی سے انحصار کرنے لگی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’’اے آئی میں سرمایہ کاری میں بڑی کمی سے تانبے کی مانگ، تعمیراتی سرگرمیوں، اقتصادی ترقی اور حصص بازاروں، ان سب پر بیک وقت منفی اثر پڑ سکتا ہے۔‘‘ یہ خطرہ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ’’ڈیٹا سینٹر کے شعبے سے باہر تانبے کی مانگ اس سال کم ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں تانبے کی منڈی مکمل طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والے اخراجات پر منحصر ہو جائے گی۔‘‘ اے آئی سے پیدا ہونے والی مانگ کے علاوہ رپورٹ میں عالمی تانبے کی منڈی میں رسد کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور تجارت سے متعلق غیر یقینی صورت حال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق، ٹیرف یعنی درآمدی محصولات کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کے درمیان امریکہ نے تقریباً 9 لاکھ میٹرک ٹن صاف شدہ تانبا اپنی طرف کھینچ لیا ہے، جس سے دوسری منڈیوں میں اس دھات کی دستیابی کم ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ’سیکشن 232‘ کے تحت اسٹیل پر عائد محصولات اور یورپی یونین کے ’کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم‘ کی وجہ سے مختلف خطوں میں تانبے کی قیمتوں کا نظام الگ الگ ہوتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں تانبے کی کان کنی میں سرمایہ کاری اور اسے صاف کرنے کی صلاحیت پر چین کے بڑے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ رسد میں رکاوٹیں، برآمدات پر کنٹرول، پیداوار کے کوٹے اور تجارتی پابندیاں تانبے کی قیمتوں، صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ’’نئی کانیں تیار ہونے کے مقابلے میں دھات پگھلانے کی صلاحیت کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے خام تانبے کے ارتکاز (کونسنٹریٹ) کے حصول کے لیے مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔‘‘

ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق چین میں اسپاٹ ٹریٹمنٹ چارجز کم ہو کر تقریباً منفی 240 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں چین کے اسمیلٹرز یعنی دھات پگھلا کر صاف کرنے والے کارخانوں کو فی خشک میٹرک ٹن تقریباً 140 امریکی ڈالر کا تخمینہ شدہ نقصان ہو رہا ہے۔ تاہم، تانبے کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے یہ کارخانے اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں، جس سے رسد اور طلب کے درمیان عدم توازن مزید طویل ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورت حال کے پیش نظر حکومتیں مقامی سطح پر دھات کی پروسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے، تانبے کا اسٹریٹجک ذخیرہ جمع کرنے، ضابطوں میں بہتری لانے، سرکاری مالی مدد فراہم کرنے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہیں۔