سائبر فراڈ کرنے والے بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش، تین گرفتار

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
سائبر فراڈ کرنے والے بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش، تین گرفتار
سائبر فراڈ کرنے والے بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش، تین گرفتار

 



نئی دہلی، یکم اکتوبر: دہلی پولیس نے آن لائن کام دلانے اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے ایک بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے اتراکھنڈ سے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت کرن بسواس، موہت سرکار عرف مونو اور ونئے منڈل کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں اتراکھنڈ کے ادھم سنگھ نگر کے رہنے والے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے دو موبائل فون، ایک بینک کی پاس بک اور ڈیجیٹل شواہد برآمد کیے گئے ہیں۔ ملزمان ’’میول‘‘ یعنی کمیشن کے عوض دستیاب کرائے گئے بینک کھاتوں اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے دھوکہ دہی سے حاصل رقم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ معاملہ ایک متاثرہ شخص کی شکایت پر جنوبی دہلی کے سائبر پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔

متاثرہ شخص کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام کے ایک گروپ کے ذریعے آن لائن کام اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری پر بھاری منافع کا جھانسہ دیا گیا۔ اس کے بعد اس سے 7 لاکھ 86 ہزار 300 روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔ متاثرہ شخص نے یہ رقم دو مرتبہ میں بھیجی تھی، لیکن ملزمان نے نہ تو اسے منافع دیا اور نہ ہی اصل رقم واپس کی۔

ایک افسر کے مطابق مالیاتی جانچ اور تکنیکی تجزیے کی بنیاد پر کرن بسواس اور موہت سرکار کو ادھم سنگھ نگر سے گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران تیسرے ملزم ونئے منڈل کا نام سامنے آیا، جو پہلے ہی سائبر جرم کے ایک دوسرے معاملے میں ہریانہ کی روہتک جیل میں بند تھا۔ افسر نے بتایا کہ پولیس نے ونئے منڈل کو تین دن کی حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ افسر کے مطابق دھوکہ دہی سے حاصل رقم کو منتقل کرنے اور نکالنے کے لیے بیچولیوں کے ذریعے کمیشن کے عوض ’’میول‘‘ بینک اکاؤنٹس فراہم کیے گئے تھے۔ اس رقم کا ایک حصہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی منتقل کیا گیا۔