ایمرجنسی کے دفاع میں اندرا گاندھی کی ایک تقریر ،کیامودی کے لیے ایک سبق ہے؟

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
ایمرجنسی کے دفاع میں اندرا گاندھی کی ایک تقریر ،کیامودی  کے لیے ایک سبق ہے؟
ایمرجنسی کے دفاع میں اندرا گاندھی کی ایک تقریر ،کیامودی کے لیے ایک سبق ہے؟

 



 نئی دہلی :آواز دی وائس

’’مودی جی کو بھی اندرا گاندھی جی سے سبق لینا چاہیے۔ جو لوگ سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں، ان کے خلاف اگر ایمرجنسی نہیں تو کم از کم این ایس اے (این ایس اے ) ضرور لگایا جانا چاہیے۔‘‘

یہ کہنا ہے راما سنگھ درگ ونشی کا، جو ممبئی کے معروف تعلیمی ادارے انجمن اسلام سے مشیر کی حیثیت سے وابستہ ہیں، سوشل میڈیا پر بھی خاصی مقبولیت رکھتی ہیں۔ ان کی جانب سے مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر کی جانے والی پوسٹس اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرتی رہی ہیں۔

ملک میں جاری سیاسی احتجاج اور سڑکوں پر ہونے والی مبینہ ہنگامہ آرائی کے درمیان ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے درگ ونشی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سابق وزیراعظم اندرا گاندھی سے سبق لینے کا مشورہ دیا ہے۔ جس کے لیے انہوں نے اندرا گاندھی کے ایک انٹرویو کا ویڈیو بھی شئیر کیا ہے۔جس میں 1975 کی ایمرجنسی اور اپوزیشن کے بڑے رہنماؤں کی گرفتاری کا دفاع کرتی دکھائی دیتی ہیں،اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ  ۔۔۔۔  ‘‘اس وقت اپوزیشن کے رہنما جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ اپوزیشن کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ انتخابات نہیں جیت سکتے، اس لیے انہوں نے انتخابی میدان کے بجائے اپنی لڑائی سڑکوں پر لے جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔’’ 

اس انٹرویو کی بنیاد  پر درگ ونشی کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت کے حالات میں اندرا گاندھی نے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی کی تھی تو موجودہ حکومت کو بھی سڑکوں پر احتجاج اور مبینہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی پر غور کرنا چاہیے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ ’’مودی جی ان سے سبق کیوں نہیں لے رہے ہیں؟‘‘ ان کے مطابق ایسے لوگوں کے خلاف کم از کم نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی تو ہونی ہی چاہیے۔

اندرا گاندھی کے پرانے انٹرویو کا حوالہ

درگ ونشی کے بیان کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک دوسری ویڈیو بھی شیئر کی جا رہی ہے، جس میں اندرا گاندھی ایک انٹرویو کے دوران 1975 میں نافذ کی گئی ایمرجنسی اور اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں کا دفاع کرتی نظر آتی ہیں۔ایک انٹرویو میں  اندرا گاندھی سے سے سوال کیا جاتا ہے کہ مرارجی دیسائی جیسے رہنما کو جیل میں کیوں ڈالا گیا، جو بعد میں ملک کے وزیر اعظم بھی بنے؟

اس پر اندرا گاندھی کا کہنا تھا کہ ۔۔۔  اپوزیشن رہنما جمہوریت کو تباہ کر رہے تھے؟ کیسے؟ دیکھیے مجھے افسوس ہے کہ آپ لوگوں کو اتنی جلدی پرانی باتیں بھول جاتے ہیں۔ بات یہ تھی کہ انہیں محسوس ہو گیا تھا کہ وہ انتخابات نہیں جیت سکتے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی لڑائی سڑکوں پر لے جانی چاہیے۔ مورار جی دیسائی نے ایک انٹرویو میں خود یہ بات کہی تھی کہ ہم وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کریں گے۔ ہم پارلیمنٹ کا گھیراؤ کریں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پارلیمنٹ میں کوئی کام نہ ہو سکے۔ وزیر اعظم باہر نہ نکل سکیں اور کوئی شخص اندر داخل نہ ہو سکے۔

حزب اختلاف کے ایک اور رکن جو بعد میں وزیر بنے نے کہا تھا کہ اگر ہم بیلٹ کے ذریعے کامیاب نہیں ہو سکتے تو ہم گولی کے ذریعے کامیابی حاصل کریں گے۔ ایک اور شخص نے پولیس اور فوج کو بھی اکسایا تھا۔ وہ جے پرکاش نارائن تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ غیر قانونی حکم ہے۔

لیکن میں آپ سے صرف یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر یہ لوگ قانون توڑ رہے تھے تو ان کے خلاف پہلے سے موجود قوانین کا استعمال کیوں نہیں کیا جا سکتا تھا؟ انہیں گرفتار کرنے کے لیے جو قانونی اختیارات پہلے ہی حکومت کے پاس موجود تھے انہیں کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟

دیکھیے ہندوستان برطانیہ کی طرح ایک چھوٹا ملک نہیں ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور یہاں کے مسائل بھی انتہائی پیچیدہ ہیں۔ پورے ملک میں شدید بد نظمی کا ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا تھا کہ جان کینتھ گالبریتھ جیسے شخص نے ہندوستان کے بارے میں کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہاں ایک ایسا انتشار ہے جو کسی طرح چل رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ انتشار بھی صحیح معنوں میں چل نہیں رہا تھا بلکہ ملک ایک ایسے انتشار کی طرف بڑھ رہا تھا جس میں نظام کام کرنا بند کر دیتا۔

اور اس وقت اگر ہم نے اس صورت حال کو نہ روکا ہوتا تو ہندوستان شاید قائم نہ رہ پاتا۔ ہندوستان کی جمہوریت کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ جو لوگ سڑکوں پر نکل کر ایسی صورت حال پیدا کر رہے تھے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ اگر ایمرجنسی نافذ نہ کی جاتی تو ان لوگوں کو روکنا اور ملک کے جمہوری نظام کو محفوظ رکھنا شاید ممکن نہ ہوتا۔۔۔‘‘

اندرا گاندھی نے اس وقت کے حالات کو ’’انتہائی بد نظمی‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکی سفارت کار جان کینتھ گالبریتھ کے ’’فنکشننگ انارکی‘‘ کے تبصرے کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر اس صورتحال کو نہ روکا جاتا تو ہندوستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

پرانی بحث کو ملا نیا نظریہ 

 ہندوستان کی سیاست میں ایمرجنسی کا دور آج بھی شدید بحث کا موضوع ہے۔ ایک فریق کا مؤقف ہے کہ اس وقت ملک میں سیاسی بے چینی اور انتظامی بد نظمی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ حکومت کو سخت اقدامات کرنا پڑے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کو جیل میں ڈالنا جمہوریت کا تحفظ نہیں بلکہ جمہوری حقوق کو دبانا تھا۔

یہ بحث صرف اس سوال تک محدود نہیں ہے کہ ایمرجنسی درست تھی یا غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت کو بچانے کے نام پر حزب اختلاف کو دبانا مناسب قرار دیا جا سکتا ہے؟ ایمرجنسی کے حق میں پیش کیے جانے والے مؤقف میں کہا گیا کہ حزب اختلاف کے بعض رہنماؤں نے انتخابی عمل کے بجائے سڑکوں پر جدوجہد کو ترجیح دینے کی بات کی تھی۔ دعویٰ کیا گیا کہ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ انتخابات نہیں جیت سکتے اس لیے انہوں نے اپنی لڑائی سڑکوں تک لے جانے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں مرار جی دیسائی کے ایک مبینہ انٹرویو کا حوالہ دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حزب اختلاف وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد یہ بتایا گیا کہ وزیر اعظم باہر نہ نکل سکیں اور کوئی شخص اندر داخل نہ ہو سکے اور پارلیمنٹ کا کام کاج ٹھپ ہو جائے۔

یہ دعویٰ جمہوریت کی اس بنیادی روح سے جڑا ہوا ہے جس میں اقتدار کی تبدیلی کا ذریعہ انتخابات ہونے چاہئیں نہ کہ اداروں کا گھیراؤ کرکے حکومت کے کام کو مفلوج کرنا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر بعض سیاسی رہنماؤں یا تحریکوں نے قانون کی خلاف ورزی کی تھی تو کیا ان کے خلاف پہلے سے موجود قوانین کے تحت کارروائی کافی تھی یا پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری تھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایمرجنسی کے جواز اور اس پر ہونے والی تنقید کے درمیان بنیادی اختلاف سامنے آتا ہے۔

جمہوریت میں احتجاج اور اختلاف فطری ہیں لیکن اگر احتجاج کی وجہ سے پارلیمنٹ اور حکومت اور انتظامیہ کا کام مکمل طور پر رک جائے تو ریاستی ادارے کمزور پڑ سکتے ہیں۔یہیں جمہوریت کے دو مختلف نقطۂ نظر سامنے آتے ہیں۔

پہلا نقطۂ نظر یہ ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج جمہوریت کا ایک ضروری حصہ ہے۔

دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اگر احتجاج آئینی اداروں کو مفلوج کرنے لگے تو وہ جمہوری نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

دراصل اس بحث کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ جمہوریت صرف حکومت چلانے کا نام نہیں ہے۔ اس میں حزب اختلاف اور اختلاف رائے اور شہری آزادی اور قانون کا یکساں احترام بھی شامل ہے۔ اس لیے کسی بھی غیر معمولی اقدام کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس نے ریاستی نظام کو محفوظ کیا یا جمہوریت کی بنیادی آزادیوں کو محدود کر دیا۔