سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے ہندوستان انفراسٹرکچر اور متبادل راستے مضبوط کرے گا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 08-10-2026
سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے ہندوستان انفراسٹرکچر اور متبادل راستے مضبوط کرے گا
سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے ہندوستان انفراسٹرکچر اور متبادل راستے مضبوط کرے گا

 



نئی دہلی: سرکاری عہدیداروں اور صنعت سے وابستہ رہنماؤں نے کہا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اہم سمندری راستوں میں رکاوٹوں اور عالمی تجارت کے بدلتے رجحانات کے درمیان ہندوستان اپنے بحری انفراسٹرکچر، جہاز رانی کی صلاحیت اور متبادل تجارتی راستوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے، تاکہ عالمی بحری نظام کی کمزوریوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کیا جاسکے۔ نئی دہلی میں بدھ کے روز شروع ہونے والے تین روزہ ’ساگر منتھن: دی گریٹ اوشنز ڈائیلاگ 2026‘ کے تیسرے ایڈیشن میں 70 سے زیادہ ممالک کے 1200 سے زائد وزرا، پالیسی ساز، صنعت کار اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔

اس مرتبہ مکالمے کا موضوع ’بلیو جیوگرافیز، نیو ایسپریشنز: ٹریڈ، ٹیکنالوجی اینڈ ٹرسٹ ایٹ سی‘ رکھا گیا ہے۔ اس کا مشترکہ اہتمام آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن اور وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں نے کیا ہے۔ پہلے روز کی گفتگو میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹوں، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر جہاز سازی کی صلاحیت کے چند مراکز تک محدود ہونے کے باعث بدلتے ہوئے بحری منظرنامے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ہندوستان کے لیے یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آرہی ہیں جب وہ اپنے بحری انفراسٹرکچر کو وسعت دینے اور عالمی تجارت میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیر برائے بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں سربانند سونووال نے کہا کہ ہندوستان کی بحری شعبے میں تبدیلی کو بندرگاہوں، جہاز سازی کے مراکز اور سمندری تربیت میں سرمایہ کاری سے تقویت مل رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی پالیسی کو ’میری ٹائم انڈیا وژن 2030‘ اور ’میری ٹائم امرت کال وژن 2047‘ سے جوڑا۔ سونووال نے کہا، ’’یہ ان لوگوں کا اجتماع ہے جو سمندروں کی طاقت اور ان سے پیدا ہونے والے دوستی کے رشتوں پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت کے بحری پروگرام کا مقصد اس شعبے کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ہندوستان اور عالمی معیشت کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا بھی ہے۔

وزیر مملکت برائے بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں شانتنو ٹھاکر نے بحری نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اہم سمندری راستوں پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سمندر عالمی ترقی، خوشحالی، سلامتی اور پائیداری کے لیے انتہائی اہم ہیں، لیکن اہم سمندری راستوں پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی تبدیلی اور تجارت کے بدلتے رجحانات نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ آبنائے ہرمز بحران نے یاد دلایا ہے کہ جب سمندری راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات دنیا کے ہر حصے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ موجودہ تجارتی راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے کمپنیوں اور حکومتوں کے لیے متبادل راستوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

ڈی پی ورلڈ کے برصغیر، وسطی ایشیا، لیونٹ اور مصر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر رضوان سومر نے کہا کہ کاروباری ادارے صرف کارکردگی بڑھانے پر توجہ دینے کے بجائے اپنی سپلائی چین میں متبادل انتظامات پیدا کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چین کے تسلسل میں لچک اب کمپنیوں کے کاروباری ماڈل کا بنیادی حصہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چار پانچ برسوں میں ’جسٹ اِن ٹائم‘ کے بجائے ’جسٹ اِن کیس‘ کا رجحان بڑھا ہے۔ اب معاملہ صرف بہترین تجارتی راستہ اختیار کرنے کا نہیں بلکہ پہلے سے متبادل راستوں کے لیے منصوبہ بی اور منصوبہ سی تیار رکھنے کا بھی ہے، تاکہ مشکل وقت میں ان راستوں کو استعمال کرکے اشیا کی نقل و حرکت اور فیکٹریوں و صارفین کو ضروری سامان کی فراہمی جاری رکھی جاسکے۔ مذاکرے کے پہلے روز ہندوستان کے اپنے بحری انفراسٹرکچر پر بھی خاص توجہ دی گئی۔

وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کے سکریٹری وجے کمار نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کی بڑی بندرگاہوں سے گزرنے والے کارگو میں اضافے اور بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اس کی بحری معیشت میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ان کے مطابق 2014-15 میں ہندوستان کی بڑی بندرگاہوں سے 58 کروڑ 10 لاکھ ٹن کارگو نمٹایا گیا تھا، جو 2025-26 میں بڑھ کر 91 کروڑ 50 لاکھ ٹن سے زیادہ ہوگیا۔ اس دوران جہازوں کے بندرگاہ پر ٹھہرنے اور سامان اتارنے چڑھانے کے وقت میں بھی 50 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد وادھاون بندرگاہ دنیا کی دس بڑی بندرگاہوں میں شامل ہوجائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ہندوستان اپنی بندرگاہوں کی صلاحیت بڑھانے اور عالمی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق ملک کی بحری حکمت عملی تیزی سے جہاز سازی، لاجسٹکس اور سمندری شعبے میں ہنرمندی کی ترقی سے بھی جڑ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملکی صلاحیت میں اضافہ صرف ہندوستان کی تجارتی ضروریات ہی پوری نہیں کرے گا بلکہ عالمی تجارت میں بھی زیادہ مضبوط اور لچک دار نظام کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔ عالمی بحری انفراسٹرکچر کو چند مراکز تک محدود رکھنے کا مسئلہ پہلے ایک وزارتی اجلاس ’ٹائڈز آف ٹرسٹ: پورٹس، پارٹنرشپس اینڈ دی میکنگ آف اے نیو میری ٹائم سنچری‘ میں بھی زیر بحث آیا۔ آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم اور ایشیا سوسائٹی کے عالمی صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر کیون رڈ نے کہا کہ ہند بحرالکاہل خطے کے ممالک طویل مدتی اقتصادی مضبوطی کے نقطۂ نظر سے بحری انفراسٹرکچر کو دیکھ رہے ہیں۔