اقوام متحدہ میں ہندوستان کی پاکستان پر سخت تنقید۔ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
اقوام متحدہ میں ہندوستان کی پاکستان پر سخت تنقید۔ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام
اقوام متحدہ میں ہندوستان کی پاکستان پر سخت تنقید۔ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام

 



نیویارک۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہندوستان نے الزام لگایا کہ پاکستان کمزور طبقات اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام رہا ہے جبکہ وہ ہندوستان کو مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں نصیحت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اقوام متحدہ میں مذہبی آزادی یا عقیدے کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندے کے ساتھ غیر معمولی حالات میں تدفین کے حقوق کے موضوع پر منعقدہ تعاملی مکالمے کے دوران ہندوستان کے مستقل مشن کی فرسٹ سکریٹری بھاویکا منگلانندن نے ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے رپورٹ کے نقطہ نظر پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کووڈ۔19 وبا کے دوران مذہبی امتیاز کے معاملات اور دہشت گردوں کے تدفین کے حقوق کی حمایت پر بھی اعتراض کیا۔

بھاویکا منگلانندن نے کہا کہ رپورٹ میں وبا کے دوران امتیازی سلوک اور انتظامی خامیوں کی ذمہ داری بنیادی طور پر عالمی جنوب کے ممالک پر ڈالتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں پیش آنے والے اسی نوعیت کے المناک واقعات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 کے دوران تمام امتیازی سلوک اور غلط طرز عمل گویا صرف عالمی جنوب میں ہی پیش آئے۔ آخر ترقی یافتہ دنیا میں پیش آنے والے اسی طرح کے المناک حالات کا ذکر نہ کرنے سے رپورٹ کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

انہوں نے انسانی تکالیف کو سیاسی رنگ دینے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹوں میں خلاف ورزیوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے نہ کہ سیاسی مقاصد کے تحت مخصوص واقعات کو اجاگر کیا جائے۔

بھاویکا منگلانندن نے کہا کہ لوگوں کے درد اور نقصان سے سیاسی فائدہ اٹھانا ایسا موضوع نہیں ہونا چاہیے جس کی بنیاد پر خصوصی نمائندے اپنی اہمیت ثابت کریں۔

دہشت گردوں کے تدفین کے حقوق سے متعلق رپورٹ کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے ہندوستانی سفارت کار نے کہا کہ مجرموں کے حقوق کو دہشت گردانہ حملوں میں جان گنوانے والے متاثرین کے حقوق پر فوقیت نہیں دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہشت گرد نہ صرف بے گناہ لوگوں کو قتل کرتا ہے بلکہ پوری قوم کی نفسیات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ افسوس ناک ہے کہ انسانی زندگی کے سب سے مقدس حق یعنی حق حیات کی خلاف ورزی کرنے والے دہشت گردوں کے حقوق کی بھرپور وکالت کی جاتی ہے لیکن دہشت گردی کے متاثرین کے حقوق کے لیے اسی جذبے کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔

کارگل جنگ کا حوالہ دے کر پاکستان کو جواب

پاکستان کے ریکارڈ پر تنقید کرتے ہوئے بھاویکا منگلانندن نے 1999 کی کارگل جنگ کا حوالہ دیا اور کہا کہ مذہبی آزادی اور تدفین کے حقوق پر پاکستان کا مؤقف انتہائی متضاد ہے کیونکہ اس نے جنگ میں مارے گئے اپنے ہی فوجیوں کی لاشیں قبول نہیں کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک اور حیران کن ہے کہ جو ملک 1999 میں کارگل میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کی لاشیں تک قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا وہ آج مذہب اور مذہبی آزادی اور تدفین کے حقوق پر بڑے جوش و خروش سے بات کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی فوج نے متعدد پاکستانی فوجیوں کو فوجی اعزازات کے ساتھ اور اسلامی طریقے کے مطابق دفن کیا تھا۔

پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر پر توجہ دینے کا مشورہ

ہندوستانی سفارت کار نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر کے معاملات پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپنے زیر قبضہ علاقوں کی صورت حال پر توجہ دے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں پاکستان کی گہری دلچسپی کا رخ دراصل جموں و کشمیر کے ان علاقوں میں جاری حالات کی طرف ہونا چاہیے جو اس کے غیر قانونی قبضے میں ہیں۔ ان میں راولاکوٹ بھی شامل ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھاویکا منگلانندن نے کہا کہ وہاں اقلیتوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے اور ان کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو ملک اپنی اقلیتوں کی سلامتی یقینی نہیں بنا سکتا اسے ہندوستان کو نصیحت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

یہ بیان پاکستان میں مذہبی امتیاز اور مبینہ جبری تبدیلی مذہب کے معاملات پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔

سندھ میں ہندو لڑکیوں کے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب پر تشویش

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حال ہی میں حیدرآباد میں منعقدہ ایک بین المذاہب مکالمے میں شرکاء نے ہندو لڑکیوں کے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب اور شادیوں کے واقعات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے سندھ میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔

کرسچن اسٹڈی سرکل کے زیر اہتمام اس پروگرام میں سیاسی نمائندوں مذہبی رہنماؤں وکلا اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے مذہبی انتہا پسندی اور امتیازی سلوک سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی سابق رکن نیلم کماری نے الزام لگایا کہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات بدستور پیش آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتوں کو مناسب تحفظ نہیں مل پا رہا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جبر اور قانونی تحفظ کی کمی کے باعث شادی کے ذریعے جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کو فروغ مل رہا ہے۔ اس سے بالخصوص ہندو اور عیسائی برادریاں متاثر ہورہی ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ مذہب کی تبدیلی رضاکارانہ ہونی چاہیے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کم عمری کی شادی آزادانہ رضامندی کے تصور کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے سندھ میں نوعمر لڑکیوں کی غیر محفوظ صورت حال کی جانب بھی توجہ دلائی جہاں غربت اور سماجی محرومی کے باعث لڑکیاں استحصال نفسیاتی صدمے اور سماجی بدنامی کا شکار ہوسکتی ہیں