نئی دہلی: اسرائیل میں 26ویں کنیسٹ یعنی پارلیمنٹ کے ارکان کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے درمیان ہندوستان نے بدھ کے روز اسرائیل کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
منگل کو ہونے والی ووٹنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل میں پہلا انتخابی مقابلہ تھا۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ملک کے داخلی سیاسی منظرنامے اور ووٹروں کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس سے قبل 2022 میں انتخابات ہوئے تھے۔
نئی دہلی میں وزارت خارجہ کی دو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’جی ہاں! اسرائیل میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ میں نے آپ کے کئی ساتھیوں کو وہاں سے رپورٹنگ کرتے دیکھا ہے۔ ہندوستان کے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ ہم آنے والے دنوں میں ان تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔‘‘
انتخابات کے ابتدائی نتائج کے حوالے سے ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق 93 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا اتحاد اپوزیشن اتحاد سے آگے ہے۔ اپوزیشن اتحاد کی قیادت گادی آئزن کوٹ کر رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔
اندازوں کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں مل سکتی ہیں جو اس کی موجودہ تعداد سے 11 کم ہیں۔ آئزن کوٹ کی قیادت والے اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ عرب جماعتوں کو تاریخی طور پر 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
پارلیمنٹ میں واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت حال کے درمیان بائیں بازو کی سیاسی جماعت دی ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے تین جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ انتخابات کے بعد میڈیا سے اپنی پہلی گفتگو میں انہوں نے ان رہنماؤں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق گولان کی آئندہ ملاقاتوں میں اپوزیشن کے اہم رہنما گادی آئزن کوٹ اور بیاخاد کے نائب سربراہ یائر لاپید بھی شامل ہیں۔
گولان چار جماعتوں پر مشتمل اس اتحاد کا حصہ ہیں جس میں صہیونی اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں۔ وہ اس اتحاد کے واحد رہنما ہیں جنہوں نے عرب جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے کی کھل کر حمایت کی ہے۔
چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے گولان نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ اتوار تک میں ان تمام رہنماؤں سے ملاقات کر لوں گا۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یسرائیل بیتینو کے سربراہ آویگدور لائبرمین بھی جمعرات کی ملاقاتوں میں شامل ہیں تو انہوں نے نام بتانے سے گریز کیا۔
اپنی سیاسی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے گولان نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ سب کا مقصد مشترکہ ہے۔ ان کے مطابق ان سب کے سامنے ایک بڑا مشن ہے اور وہ ہے اسرائیل کے عوام میں امید پیدا کرنا۔
گولان نے مزید کہا کہ نئی حکومت کا قیام سکیورٹی کے اہم چیلنجوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور موجودہ حکومت کی متنازع عدالتی اصلاحات کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں بھی امید بحال کرنا اہم ہے کیونکہ اب وہ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ اس ملک میں رہنا بھی چاہتے ہیں۔