نئی دہلی: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کو کہا کہ ہندوستان ایک مضبوط ملکی دفاعی نظام تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے، کیونکہ قومی سلامتی کے چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک خودمختاری اور ملک میں تیار کی گئی فوجی صلاحیتیں انتہائی ضروری ہیں۔ راجستھان کے جیسلمیر میں وزارت دفاع کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت بیرونی ذرائع پر ملک کے اسٹریٹجک انحصار کو کم کرنے کی کوششوں کے تحت ملکی دفاعی صنعت کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک خودمختاری اور ملک میں تیار کی گئی تکنیکی صلاحیتیں ضروری ہیں۔‘
‘ اجلاس میں سلامتی کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں، جنگ کے بدلتے طریقوں، تکنیکی ترقی اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور فوجی کارروائیوں کے لیے مستعد فوج بنانے کی ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت کے دوران جن اہم امور پر توجہ دی گئی، ان میں نئی نسل کے فوجی پلیٹ فارم اور ہتھیاروں کے نظام کو فوج میں شامل کرنے کے عمل کو تیز کرنا، تینوں افواج کے درمیان تال میل مضبوط بنانا، مشترکہ فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنا اور مختلف فوجی صلاحیتوں کا مربوط استعمال یقینی بنانا شامل ہے۔ راجناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ فوج کو سلامتی کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ’بجٹ اور دفاعی سازوسامان کی خریداری‘ اور ’ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل‘ جیسے اہم شعبوں میں کئی اقدامات کیے ہیں، تاکہ فوج کو ٹیکنالوجی پر مبنی جدید جنگ کے بدلتے تقاضوں کے لیے تیار کیا جاسکے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت فوج کی جدید کاری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بجٹ میں مالی وسائل فراہم کرنے اور دفاعی سازوسامان کی خریداری پر مسلسل توجہ دے رہی ہے۔
ان کے مطابق، مناسب مالی وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کا مؤثر استعمال اور تینوں افواج کی اہم ضروریات کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔ راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے دفاعی بجٹ بڑھا کر ریکارڈ 7.85 لاکھ کروڑ روپے کردیا گیا ہے، جس میں 2.19 لاکھ کروڑ روپے دفاعی سازوسامان کی خریداری اور دیگر سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں۔ دفاعی شعبے میں خود کفالت کے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی دفاعی پیداوار 2014-15 میں 46,429 کروڑ روپے تھی، جو 2025-26 میں بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2014 میں ہندوستان کی دفاعی برآمدات 2,000 کروڑ روپے سے بھی کم تھیں، لیکن اب بڑھ کر تقریباً 40,000 کروڑ روپے ہوگئی ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے کہا، ’’ہمارا ہدف 2029 تک 3 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار اور 50,000 کروڑ روپے کی دفاعی برآمدات حاصل کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے جدید جنگ میں ٹیکنالوجی کے بدلتے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی ترقی اب جنگ اور تنازعات کی بدلتی نوعیت کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ وزیر دفاع نے انسانی وسائل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی فوج کی طاقت کا اندازہ صرف اس کی ٹیکنالوجی اور مالی وسائل سے نہیں لگایا جاسکتا، بلکہ اس میں شامل اہلکاروں کی صلاحیتوں اور تیاریوں کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جنگ کے تیزی سے بدلتے طریقوں کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ ہماری دفاعی افواج خود کو جدید جنگ کے بدلتے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تینوں افواج نے اپنی تنظیمی ساخت اور فوجی دستوں میں مسلسل تبدیلیاں کی ہیں۔‘‘ راجناتھ سنگھ نے کہا، ’’ہندوستانی فوج کے نئے دستے، جن میں ’اسنی‘، ’بھیرو‘ اور ’شکتی بان‘ پلاٹون شامل ہیں، موجودہ فوجی ضروریات پوری کرنے اور میدان جنگ کے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ فوج کی جدید کاری ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، سلامتی کے چیلنجوں اور نئی ضروریات کے پیش نظر فوج کی آپریشنل تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ وزیر دفاع نے طویل مدتی فوجی صلاحیتیں تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ دفاعی افواج فوجی کارروائیوں کے لحاظ سے مؤثر اور خود کفیل رہ سکیں۔ وزارت دفاع کے مطابق، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طے شدہ منصوبوں کو عملی شکل دی جائے اور فوج کی جدید کاری کے لیے منظم اور مرحلہ وار طریقہ اختیار کیا جائے۔ وزارت نے کہا کہ اس کا مقصد ایسی فوج تیار کرنا ہے جو روایتی، غیر روایتی اور مختلف محاذوں پر درپیش سلامتی کے چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرسکے۔