ہندوستان نے کبھی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مصنوعات کی درآمد کی اجازت نہیں دی اور نہ آئندہ دے گا: پیوش گوئل

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
ہندوستان نے کبھی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مصنوعات کی درآمد کی اجازت نہیں دی اور نہ آئندہ دے گا: پیوش گوئل
ہندوستان نے کبھی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مصنوعات کی درآمد کی اجازت نہیں دی اور نہ آئندہ دے گا: پیوش گوئل

 



نئی دہلی: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے منگل کو کہا کہ ہندوستان نے کبھی بھی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مصنوعات کی درآمد کی اجازت نہیں دی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا نہیں کرے گا، کیونکہ یہ ایک ’’انتہائی حساس‘‘ معاملہ ہے۔ نئی دہلی میں کیروڑی مل کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے گوئل نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ڈیری کا شعبہ بھی بہت حساس ہے اور ہندوستان نے کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے میں اس شعبے کے لیے کبھی کسٹم ڈیوٹی میں رعایت نہیں دی ہے۔

تجارتی معاہدوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ہم کچھ زرعی مصنوعات اور بعض ایسی اشیا کے معاملے میں اپنی منڈی کھولنے کو لے کر بہت حساس ہیں، جن میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے، جیسے سمندری مصنوعات۔ ہم اپنے ڈیری شعبے کو کھولنے کے معاملے میں بھی بہت محتاط ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آج تک کسی کے لیے بھی ڈیری کا شعبہ نہیں کھولا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم ہندوستان میں کسی بھی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مصنوعات کو آنے دینے کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔ ہم نے کبھی اس کی اجازت نہیں دی اور نہ مستقبل میں کبھی دیں گے۔ ہم اپنے مذہبی جذبات کا بھی خیال رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر، بیرون ملک پنیر بنانے کے لیے بعض اوقات بچھڑے کے گوشت یا ’رینیٹ‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن ہم ہندوستان میں اس کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے لیے سخت سرٹیفکیشن ضروری ہے، تاکہ ملک کے بڑے طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔‘‘ ’رینیٹ‘ ایک انزائم ہے، جسے پنیر بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ روایتی طور پر اسے کم عمر بچھڑوں کے معدے کی اندرونی تہہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ گوئل نے کہا کہ ہندوستان نے اب تک جن تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دی ہے، ان میں کسی بھی حساس چیز کے معاملے میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

ملک اپنے کسانوں، ماہی گیروں اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ وزیر نے کہا، ’’ہماری کوشش ہے کہ نئے مواقع پیدا کیے جائیں، روزگار کے نئے راستے کھولے جائیں اور اپنی ان مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں، جن میں ہم مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے ہندوستان کے بڑے طبقے، ہماری چھوٹی اور درمیانی صنعتوں اور زرعی شعبے کے کسانوں سمیت سبھی کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ٹیکسٹائل، ادویات، زرعی مصنوعات اور قیمتی پتھروں و زیورات جیسے شعبوں کے لیے ترجیحی بنیاد پر منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ گوئل کے مطابق، ’’یہ ہمارے وہ شعبے ہیں جن کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ہم ترجیحی منڈی تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندوستان سے آنے والی اشیا پر عائد ڈیوٹی ہمارے حریف ممالک، جیسے انڈونیشیا، ملائیشیا، ویتنام، چین اور فلپائن کے مقابلے میں کم ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی کوشش ہے کہ اسے اپنے حریف ممالک کے مقابلے میں کسٹم ڈیوٹی کی ترجیحی شرح حاصل ہو۔

روزگار کے معاملے پر گوئل نے کہا کہ حکومت ملک میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم مینوفیکچرنگ اور سرکاری ملازمتوں کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم باقاعدہ ملازمت تلاش کرنے والوں کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ تاہم، آج دنیا کاروبار شروع کرنے کے نئے راستے کھول رہی ہے، اسٹارٹ اپ کے مواقع فراہم کر رہی ہے اور روزگار کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔ میں آپ سے اپیل کروں گا کہ ان امکانات پر سنجیدگی سے غور کریں۔‘‘