وجے واڑہ: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان 2047 سے پہلے بھی خود کفیل بن سکتا ہے۔ انہوں نے خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی) کے ذریعے دیہی خواتین کے بڑھتے ہوئے معاشی استحکام پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی خود انحصاری ملک کو اس ہدف تک جلد پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ صدر مرمو نے وجے واڑہ کے پونّمی گھاٹ پر قومی سارَس میلے 2026 کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ میلہ روایتی طور پر دہلی میں منعقد ہوتا رہا ہے، لیکن پہلی بار جنوبی ہندوستان کی ریاست میں اس کا اہتمام کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستان خود کفالت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ خود امدادی گروپوں کے ذریعے دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار ہوتے دیکھ کر مجھے یقین ہے کہ ہمارا ملک 2047 سے پہلے بھی خود کفالت کا ہدف حاصل کر سکتا ہے۔‘‘ قومی سارَس میلے کا اہتمام مرکزی وزارتِ دیہی ترقی اور آندھرا پردیش حکومت نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ اس میلے کا مقصد دیہی دست کاروں اور خواتین کے خود امدادی گروپوں کو اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایسے میلوں کا انعقاد ہر سال مختلف ریاستوں میں کیا جائے گا، تاکہ خواتین کاروباریوں کو اپنی مصنوعات پیش کرنے اور انہیں بازار تک پہنچانے کے زیادہ مواقع مل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین نہ صرف خود کفیل بن رہی ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی معاشی طور پر خود مختار بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔ بعض خواتین ماہانہ دو لاکھ روپے سے زیادہ کما رہی ہیں۔ دروپدی مرمو نے کہا کہ اب ملک کو ’لکھ پتی دیدی‘ کے ہدف سے آگے بڑھ کر ’کروڑ پتی دیدی‘ بنانے کی سمت کام کرنا چاہیے، تاکہ خواتین اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں اور اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔
ان کے مطابق، دیہی روزگار اور خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے بڑھتا ہوا معاشی استحکام اس بات کی امید پیدا کرتا ہے کہ ہندوستان مقررہ وقت سے پہلے خود کفیل بن سکتا ہے۔ 15 سے 31 اکتوبر تک جاری رہنے والا یہ 14 روزہ قومی سارَس میلہ دیہی علاقوں میں خواتین اور بچوں کی ترقی کے گروپوں (ڈی ڈبلیو سی آر اے) سے وابستہ خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کر رہا ہے۔ میلے میں تقریباً 650 اسٹال لگائے گئے ہیں۔ صدر مرمو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ خود امدادی گروپوں سے وابستہ خواتین اب تیزی سے ٹیکنالوجی اور مالیاتی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ خود امدادی گروپوں کو مزید وسائل فراہم کیے جائیں اور دیہی روزگار مشن کے تحت خواتین کی قیادت میں چلنے والی تنظیموں کو مضبوط بنایا جائے۔ ان اقدامات سے خواتین کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے اور ان میں اپنے حقوق اور مواقع کے بارے میں بیداری بڑھی ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ دیہی خواتین، خصوصاً کسان خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانے کے لیے درمیانی دلالوں کا کردار ختم کرنا اور انہیں براہ راست مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے خواتین میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور جدید طریقۂ کار کے بارے میں بیداری بڑھانے پر بھی زور دیا۔
آندھرا پردیش کے گورنر ایس عبدالنذیر نے کہا کہ یہ میلہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا انعقاد اندرکیلا دری میں شرد نو راتری کی تقریبات اور وجے واڑہ اتسو کے دوسرے ایڈیشن کے ساتھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس پروگرام کو ملک بھر کی خواتین کے خود امدادی گروپوں کی طاقت، تخلیقی صلاحیتوں، کاروباری جذبے اور عزم کا جشن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خود امدادی گروپ اجتماعی کوششوں، قرض کی سہولت، ہنر کی تربیت، کاروبار کے فروغ اور منڈیوں تک رسائی کے ذریعے سماجی تبدیلی اور معاشی ترقی کے مؤثر ذرائع بن کر ابھرے ہیں۔
گورنر نے کہا کہ خواتین اب محض سرکاری ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھانے والی نہیں رہیں، بلکہ کاروباری شخصیت اور سماجی تبدیلی کی محرک بن رہی ہیں۔ سارَس آجیویکا میلے میں ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خود امدادی گروپوں کے تقریباً 1500 ارکان شرکت کر رہے ہیں، جبکہ یہاں 630 اسٹال لگائے گئے ہیں۔ ان اسٹالوں پر ہتھ کرگھے کی مصنوعات، دست کاری کی اشیا، قدرتی غذائی مصنوعات، کھانے پینے کے لیے خصوصی حصے اور کسانوں کی پیداواری تنظیموں اور کلسٹر سطح کی انجمنوں کی تیار کردہ اشیا پیش کی جا رہی ہیں۔
گورنر کے مطابق، میلے میں روزانہ 50 ہزار سے ایک لاکھ افراد کی آمد متوقع ہے۔ اس سے خواتین کاروباریوں کو گاہکوں سے براہ راست رابطہ قائم کرنے، نئی منڈیوں تک پہنچنے اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ توجہ صرف روزگار پیدا کرنے تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ خواتین کی قیادت میں ایسے کاروبار قائم کرنے پر بھی ہونی چاہیے جو منافع بخش، پائیدار اور بڑے پیمانے پر ترقی کرنے کے قابل ہوں۔ اس کے لیے خواتین کاروباریوں کو مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی، برانڈنگ، پیکنگ، معیار کی تصدیق اور قابل اعتماد تجارتی رابطے فراہم کرنا ضروری ہے۔
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے کہا کہ دسہرہ کے تہوار کے دوران سارَس میلے کے انعقاد سے وجے واڑہ کی رونق بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق، صدر جمہوریہ کے ہاتھوں اس میلے کا افتتاح خواتین کی طاقت اور نئے ہندوستان کی قوت کی علامت ہے۔ نائیڈو نے کہا، ’’خواتین کی طاقت کو نمایاں کرنے کے لیے یہ پروگرام پہلی بار دہلی سے باہر وجے واڑہ میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد دیہی خواتین کی آمدنی بڑھانا، خواتین صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور گاؤں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو شناخت دلانا ہے۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب خواتین ترقی کرتی ہیں تو ان کے خاندان، سماج اور ملک بھی ترقی کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ہدف چھ کروڑ ’لکھ پتی دیدیاں‘ تیار کرنا ہے۔ نائیڈو کے مطابق، آندھرا پردیش میں 11 لاکھ خود امدادی گروپ کام کر رہے ہیں، جن کا مجموعی کاروباری حجم 69 ہزار کروڑ روپے ہے۔ ان گروپوں کی وجہ سے ریاست نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال کے اندر ایک لاکھ خواتین کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم پانچ لاکھ خواتین کو کاروباری افراد اور دس لاکھ خواتین کو صنعت کار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کے لیے ہم نے ’سویم اے پی‘ برانڈ متعارف کرایا ہے، جو ای کامرس پلیٹ فارموں پر بھی دستیاب ہوگا۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ’استری شکتی‘ مفت بس سفر اسکیم کے تحت خواتین اب تک 100 کروڑ سفر کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود امدادی گروپوں کے تعاون سے حکومت ’سورن آندھرا 2047‘ کے ترقیاتی منصوبے کو آگے بڑھائے گی۔ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو خود امدادی گروپوں کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چندرابابو نائیڈو ٹیکنالوجی کی مدد سے دیہی علاقوں میں خواتین کے ڈی ڈبلیو سی آر اے گروپوں کو مضبوط بنا رہے ہیں اور آندھرا پردیش میں ایسے 11 لاکھ گروپ موجود ہیں۔