نئی دہلی۔ : انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ نے پیر کو سپریم کورٹ کی جانب مارچ شروع کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ایس آئی آر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں عرضی پیش کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والے اس مارچ میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی۔ بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور سی پی آئی و سی پی ایم کے رہنما شامل ہوئے۔
کانگریس رہنما سچن پائلٹ نے کہا کہ آج پورے ملک میں لوگ سڑکوں پر ہیں۔ راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں کانگریس کارکنان ملک بھر سے جمع ہوئے ہیں۔ ان سب کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ ان کی بات سنے۔انہوں نے چیف الیکشن کمشنر پر غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کا الزام لگاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ ووٹ چوری کے سلسلے میں پیش کیے گئے ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت بچانے کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین پرامن اور گاندھیائی طریقے سے اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں لیکن پولیس نوجوانوں پر تشدد کر رہی ہے اور رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کو معاملے کی سماعت کرنی چاہیے تاکہ مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔انڈیا بلاک کی جماعتوں نے کہا کہ ان کے ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کریں گے اور سپریم کورٹ میں عرضی پر دستخط کریں گے۔
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آنند بھدوریا نے کہا کہ مارچ کا مقصد چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور انہیں جیل بھیجنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ نہیں دیتے اور انہیں جیل نہیں بھیجا جاتا تب تک یہ جدوجہد اور احتجاج جاری رہے گا۔سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے بتایا کہ انڈیا بلاک کی جانب سے 10 رہنما سپریم کورٹ میں عرضی پر دستخط کرکے اسے جمع کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی عرضی پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشارے پر کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے اب بھی فرضی ووٹ درج کیے جا رہے ہیں اور الیکشن کمیشن سے غیر جانب دار رہنے کی امید ہے۔اکھلیش یادو کے مطابق اتر پردیش میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں دوہرے ووٹ موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے اور افسران تعینات کرنے کے باوجود ووٹر فہرستوں کی خامیوں کو دور کیوں نہیں کیا جا سکا۔
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مطالبہ ہے۔ ان کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔
سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیا اور اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔