’انڈیا‘ اتحاد کا الیکشن کمیشن کی طرف مارچ، کئی اپوزیشن رہنما حراست میں

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
’انڈیا‘ اتحاد کا الیکشن کمیشن کی طرف مارچ، کئی اپوزیشن رہنما حراست میں
’انڈیا‘ اتحاد کا الیکشن کمیشن کی طرف مارچ، کئی اپوزیشن رہنما حراست میں

 



نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے منگل کو الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کرنے والے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی اور ڈیرک او برائن سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے بھی پارلیمنٹ احاطے سے شروع ہونے والے اس مارچ میں شامل ہوئے۔

مارچ کو پارلیمنٹ اسٹریٹ پر نیتی آیوگ کے دفتر کے قریب روک دیا گیا۔ جب سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو الیکشن کمیشن کے صدر دفتر کی طرف آگے بڑھنے سے روکا تو راہل گاندھی ایک بیریکیڈ پر چڑھتے اور ترنگا لہراتے نظر آئے۔ اکھلیش یادو، ڈیرک او برائن، ابھیشیک بنرجی، ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگریکا گھوش، کانگریس کی رکن پارلیمنٹ جیوتی مانی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے کر بسوں کے ذریعے وہاں سے لے جایا گیا۔ ساگریکا گھوش نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہمیں حراست میں لیا جا رہا ہے اور کسی نامعلوم مقام پر لے جایا جا رہا ہے۔‘‘

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن ووٹ دینے کے حق اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ کانگریس صدر نے کہا، ’’یہ احتجاج جاری رہے گا۔ ہم آپ کے ووٹ اور آپ کی آزادی کے تحفظ کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ملک کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں اور ووٹ چوری کیے جا رہے ہیں۔ ہم ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے لڑ رہے ہیں اور آئندہ بھی لڑتے رہیں گے۔‘‘ کھڑگے نے کہا کہ جمہوریت کو بچانا پہلی ترجیح ہے اور اس کے بعد گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ آتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یہاں صرف ’انڈیا‘ اتحاد کے لوگ ہی جمع نہیں ہوئے ہیں بلکہ سب اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کا ووٹ چھینا جا رہا ہے اور ان کی آزادی ختم ہوتی جارہی ہے۔‘‘ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کے فیصلے غیر جانب دار ہونے چاہییں۔

انہوں نے کہا، ’’الیکشن کمیشن پر الزامات لگنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسے ایسے غیر جانب دار فیصلے کرنے چاہییں جن سے جانبداری کا احساس نہ ہو۔ بی جے پی کو الیکشن کمیشن میں ہی اپنا دفتر کھول لینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا، ’’الیکشن کمیشن یہ طے کر رہا ہے کہ ہندوستان کا شہری کون رہے گا۔ ذرا سوچیے۔‘‘ شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے بھی گیانیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا، ’’چیف الیکشن کمشنر بدعنوان شخص ہیں۔ انہوں نے برسراقتدار جماعت کے غلام کی طرح کام کیا ہے۔