اتر پردیش میں قدرتی آفات کے معاوضے میں اضافہ، کسانوں کو بڑی راحت

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 06-11-2026
اتر پردیش میں قدرتی آفات کے معاوضے میں اضافہ، کسانوں کو بڑی راحت
اتر پردیش میں قدرتی آفات کے معاوضے میں اضافہ، کسانوں کو بڑی راحت

 



لکھنؤ: اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ قدرتی آفات میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو اب پہلے کے مقابلے دوگنا معاوضہ ملے گا، جب کہ فصلوں کے نقصان پر دی جانے والی مالی امداد میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) کے مطابق، ریاست کے 10 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو اس فیصلے سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ معاوضے کی بڑھی ہوئی شرحیں یکم اپریل سے 4 نومبر کے درمیان ہونے والے نقصانات پر لاگو ہوں گی۔ قدرتی آفات میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو اب 4 لاکھ روپے کے بجائے 8 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔

ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) اور قومی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (این ڈی آر ایف) کے تحت مالی امداد کے نئے ضابطے نافذ کر دیے گئے ہیں۔ فصلوں اور زرعی زمین کو پہنچنے والے نقصان کے معاوضے میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ آبپاشی والے علاقوں میں فصلوں کے نقصان پر دی جانے والی امداد 17,000 روپے سے بڑھا کر 22,000 روپے فی ہیکٹر کر دی گئی ہے، جب کہ بارش پر منحصر علاقوں میں یہ رقم 8,500 روپے سے بڑھا کر 11,000 روپے فی ہیکٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح بار بار پیداوار دینے والی فصلوں اور زرعی جنگلات کے لیے امداد 22,500 روپے سے بڑھا کر 30,000 روپے فی ہیکٹر کر دی گئی ہے۔

کھیتوں سے گاد اور مٹی ہٹانے کے لیے دی جانے والی رقم 18,000 روپے سے بڑھا کر 23,000 روپے فی ہیکٹر کر دی گئی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے زمین کو پہنچنے والے نقصان کی صورت میں معاوضہ 47,000 روپے سے بڑھا کر 60,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ مویشی پالنے اور مرغی بانی سے وابستہ افراد کو بھی اب زیادہ مالی مدد ملے گی۔ بڑے مویشیوں کی موت پر معاوضہ 40,000 روپے سے بڑھا کر 50,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ بکری، بھیڑ اور سور جیسے چھوٹے مویشیوں کے لیے یہ رقم 4,000 روپے سے بڑھا کر 5,500 روپے ہو گئی ہے، جب کہ گھوڑے اور خچر جیسے باربردار جانوروں کی موت پر 20,000 روپے کے بجائے 25,400 روپے دیے جائیں گے۔

مرغی بانی کرنے والوں کو اب فی پرندہ 100 روپے کے بجائے 130 روپے ملیں گے۔ ریشم کی پیداوار سے وابستہ کسانوں کو بھی نئی امدادی شرحوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ایری، شہتوت اور ٹسار ریشم کی پیداوار کے لیے مالی امداد 6,000 روپے سے بڑھا کر 7,800 روپے فی ہیکٹر کر دی گئی ہے، جب کہ موگا ریشم کی پیداوار کے لیے یہ رقم 7,500 روپے سے بڑھا کر 9,800 روپے فی ہیکٹر ہو گئی ہے۔

مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے معاوضے میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکان کے لیے میدانی علاقوں میں 1.85 لاکھ روپے اور پہاڑی علاقوں میں 2.06 لاکھ روپے دیے جائیں گے، جب کہ میدانی علاقوں میں جزوی طور پر تباہ ہونے والے مکان کے لیے 93,000 روپے کی امداد مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پرائمری اسکولوں کی مرمت کے لیے زیادہ سے زیادہ 15.50 لاکھ روپے، جب کہ سیکنڈری اسکولوں، انٹرمیڈیٹ کالجوں اور پولی ٹیکنک اداروں کی مرمت کے لیے 26 لاکھ روپے تک کی امداد فراہم کی جائے گی۔ سڑکوں اور اسپتالوں کی مرمت کے لیے بھی نئے امدادی ضابطے مقرر کیے گئے ہیں۔