نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس نے اس کے رہنماؤں ابھیجیت دپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو قومی دارالحکومت میں ان کا طیارہ اترنے کے بعد حراست میں لے لیا۔ پارٹی نے ایک بیان جاری کرکے مبینہ حراست کی مذمت کی۔ اس نے الزام لگایا کہ یہ اس کے رہنماؤں کو احتجاج کے لیے مقررہ مقام تک پہنچنے سے روکنے کی پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ پارٹی کے رہنما ممبئی سے دہلی پہنچے تھے۔ کاجپا نے اس کارروائی کو آزادانہ نقل و حرکت کے حق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تینوں رہنماؤں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر الزام لگ رہے ہیں کہ انہوں نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی آڑ میں ووٹر فہرستوں میں گڑبڑی کی اور ووٹر رجسٹریشن کے دستاویز ’فارم 6‘ میں تبدیلی کے معاملے پر دو ساتھی الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کو نظرانداز کیا۔ کاجپا نے انہی معاملات کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا، ایک الگ خبر کے مطابق، جمعہ کو جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کرنے والے تقریباً 200 مظاہرین کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ یہ لوگ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاجپا کے مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق، ان مظاہرین کو نئی دہلی کے مختلف مقامات سے حراست میں لیا گیا۔ پولیس مظاہرین کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کا استعمال بھی کر رہی تھی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گروگرام کے سیکٹر 56 سے حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ کاجپا نے دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس نے اس کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ اور تین دیگر وکلا کو بھی حراست میں لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، مجوزہ احتجاج سے پہلے احتیاطی اقدامات کے تحت قومی دارالحکومت کے تمام 15 اضلاع میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے 600 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد احتجاج کے دوران امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ کریں۔
ذرائع کے مطابق، پولیس ایسے افراد کی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھ رہی ہے جو احتجاج میں شرکت کے لیے لوگوں کو جمع کر سکتے ہیں یا انہیں اس میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کر سکتے ہیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت ایسے افراد کی رہائش گاہوں کے باہر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ کسی بھی ناخوش گوار واقعے کو روکنے کے لیے دہلی کے اہم مقامات پر، خصوصاً جنتر منتر اور دیگر حساس علاقوں کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دہلی پولیس نے حفاظتی خدشات اور ضابطہ جاتی تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے کاجپا کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق، نئی دہلی کے علاقے میں امتناعی احکامات نافذ ہیں اور لوگوں سے ان پابندیوں پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ احتجاج کے پیش نظر پورے شہر میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں، تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع کو روکا جا سکے۔