مہوا موئترا کی سکیورٹی بڑھانے کی درخواست پر ہائی کورٹ نے حلف نامہ طلب کیا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
مہوا موئترا کی سکیورٹی بڑھانے کی درخواست پر ہائی کورٹ نے حلف نامہ طلب کیا
مہوا موئترا کی سکیورٹی بڑھانے کی درخواست پر ہائی کورٹ نے حلف نامہ طلب کیا

 



کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ نے بدھ کو ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو سکیورٹی بڑھانے سے متعلق اپنی درخواست کے سلسلے میں ایک اضافی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ مہوا موئترا کے وکیل نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ضابطے کے مطابق ان کے ساتھ ذاتی سکیورٹی افسر (پی ایس او) تعینات نہیں ہے۔

جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے محوا موئترا کو درگا پوجا کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد ایک ہفتے کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 2 دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت نے محوا موئترا کے وکیل ارکو کمار ناگ کو درخواست میں مرکزی وزارت داخلہ کو بھی فریق بنانے کی اجازت دے دی۔ مغربی بنگال حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل راج دیپ مجمدار نے کہا کہ محوا موئترا رکن پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے ’ایکس زمرے‘ کی سکیورٹی کی حقدار ہیں اور ضابطے کے مطابق انہیں ایک ذاتی سکیورٹی افسر فراہم کیا گیا ہے۔

جسٹس بھٹاچاریہ نے کہا کہ کرشن نگر کی رکن پارلیمنٹ محوا موئترا کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہیں زیادہ سکیورٹی کی ضرورت کیوں ہے۔ راج دیپ مجمدار اور محوا موئترا کے وکیل، دونوں نے دلیل دی کہ اس درخواست میں مرکزی وزارت داخلہ کو بھی فریق بنایا جانا چاہیے۔

محوا موئترا کی ایک دوسری درخواست پر پہلے جاری کیے گئے حکم میں ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ جب بھی وہ اپنے انتخابی حلقے کا دورہ کریں تو ان کی حفاظت کے لیے دو پولیس اہلکار فراہم کیے جائیں۔ یہ حکم ان الزامات کے پیش نظر دیا گیا تھا کہ ایسے دوروں کے دوران ان پر انڈے پھینکے گئے اور انہیں پریشان کیا گیا۔ محوا موئترا کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا کی رکن کے لیے تعینات ذاتی سکیورٹی افسر ضابطے کے مطابق ان کے ساتھ نہیں گیا تھا۔