نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے متعلق یوتھ کانگریس کی درخواست پر جمعہ کو فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ اس درخواست کو 12 اکتوبر، پیر کے روز سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ اس معاملے کا پہلی بار جمعرات کو عدالت میں ذکر کیا گیا تھا۔ اس وقت بنچ نے جمعہ کو سماعت کے لیے درخواست درج کرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم، جمعہ کو جب درخواست سماعت کے لیے فہرست میں شامل نہیں ہوئی تو وکیل نے دوبارہ اسی دن سماعت کرنے کی اپیل کی۔
قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما پر مشتمل بنچ نے وکیل کی بار بار درخواست کے باوجود فوری سماعت سے انکار کر دیا۔ بنچ نے کہا، ’’آج ایسی کیا ہنگامی صورت حال ہے؟ ہم اس معاملے کی سماعت پیر کو کریں گے۔ اسے پیر کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔‘
‘ یوتھ کانگریس کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سنجوئے گھوش نے عدالت کو بتایا کہ درخواست میں موجود تمام خامیوں کو دور کر دیا گیا ہے، اس کے باوجود اسے جمعہ کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔
فوری سماعت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وکیل نے کہا، ’’جج صاحب، آپ ہر روز دیکھ رہے ہیں کہ احتجاج کے لیے مقررہ مقام پر مظاہرے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔‘‘ تاہم، بنچ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’نہیں، ہم اس معاملے کی سماعت پیر کو کریں گے۔‘‘ دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کے بعد یوتھ کانگریس نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔